ڈی کے شیوکمار کی کوششیں رنگ لے آئیں، ناراض کانگریس رہنما رام لنگا ریڈی نے استعفیٰ واپس لے لیا

کرناٹک میں نومنتخب کانگریس حکومت کو درپیش ابتدائی سیاسی بحران اس وقت خوش اسلوبی سے حل ہو گیا جب سینئر رہنما اور کابینہ کے رکن رام لنگا ریڈی نے ہفتے کے روز اپنا استعفیٰ باضابطہ طور پر واپس لے لیا۔ ریاستی کانگریس کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ طویل سیاسی مشاورت اور رات گئے ہونے والی ملاقاتوں کے بعد انہوں نے ریاستی کابینہ میں اپنے فرائض جاری رکھنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔ اس پیش رفت نے نئی حکومت کے استحکام پر اٹھنے والے سوالات کو وقتی طور پر ختم کر دیا ہے۔

وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے ہفتے کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پارٹی کے اندرونی اختلافات کی تمام قیاس آرائیوں کو سختی سے مسترد کر دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ رام لنگا ریڈی کے ساتھ تمام معاملات طے پا گئے ہیں اور اب استعفے کا تنازعہ مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ سیاسی حلقوں میں گردش کرنے والی من گھڑت کہانیاں بے بنیاد ہیں کیونکہ رام لنگا ریڈی ان کے دیرینہ ساتھی ہیں اور آپسی رضامندی اور گفت و شنید سے تمام تحفظات دور کر لیے گئے ہیں۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق جمعہ کی رات وزیر اعلیٰ شیوکمار نے بنگلورو کے جیانگر علاقے کے ایک نجی ہوٹل میں رام لنگا ریڈی سے طویل ملاقات کی تھی جس میں ان کے مطالبات سنے گئے۔ اس اہم ملاقات سے قبل وزیر اعلیٰ نے اپنی اہلیہ کے ہمراہ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے کی رہائش گاہ پر ان کے ساتھ عشائیہ بھی کیا تھا، جس میں ریاست کی ابھرتی ہوئی سیاسی صورتحال اور کابینہ کے عدم اطمینان پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

رام لنگا ریڈی نے جمعہ کے روز محکموں کی تقسیم کے محض چند گھنٹوں بعد ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا حیران کن اعلان کیا تھا۔ سینئر کانگریس رہنما اس بات پر شدید نالاں تھے کہ انہیں بنگلورو ڈیولپمنٹ کا اہم قلمدان دینے کے بجائے آبپاشی کا محکمہ تفویض کیا گیا تھا۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے طویل سیاسی تجربے کو نظر انداز کیا گیا اور دو بار وعدہ کرنے کے باوجود ان کا مطلوبہ محکمہ کسی اور کو دے کر ان کی سیاسی تذلیل کی گئی ہے۔ ان کا واضح موقف تھا کہ وہ اپنے ضمیر کے خلاف کام نہیں کر سکتے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق رام لنگا ریڈی کا استعفیٰ ڈی کے شیوکمار کی قیادت میں بننے والی نئی حکومت کے لیے پہلا اور بڑا سیاسی چیلنج تھا۔ تاہم ریاستی اور مرکزی قیادت کی فوری اور موثر مداخلت نے اس صورتحال کو بے قابو ہونے سے بچا لیا۔ اس کامیاب مصالحتی عمل سے حکومت نے ریاستی انتظامیہ اور عوام کو یہ مضبوط پیغام دیا ہے کہ کانگریس پارٹی کے اندر اتحاد برقرار ہے اور حکومت کی تمام تر توجہ اب اندرونی اختلافات کے بجائے ریاست کی ترقیاتی پالیسیوں اور انتخابی وعدوں کی تکمیل پر مرکوز رہے گی۔

شیئر کریں۔