کرناٹک حکومت میں محکموں کی تقسیم پر ناراضگی، استعفیٰ دینے والے رام لنگا ریڈی کی کانگریس ہائی کمان سے اہم ملاقات

کرناٹک میں نومنتخب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کی قیادت میں بننے والی کانگریس حکومت کو ابتدا میں ہی محکموں کی تقسیم کے معاملے پر اندرونی اختلافات کا سامنا ہے۔ ریاستی کابینہ میں آبی وسائل کا محکمہ دیے جانے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے استعفیٰ دینے والے سینئر رہنما رام لنگا ریڈی کی آج کانگریس کے جنرل سکریٹری اور کرناٹک کے انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا سے اہم ملاقات متوقع ہے۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد محکموں کی تقسیم پر پیدا ہونے والے بحران کو حل کرنا ہے۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق رام لنگا ریڈی نے تین جون کو وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کی کابینہ میں بطور وزیر حلف لیا تھا۔ محکموں کے اعلان کے فوراً بعد انہوں نے اپنا استعفیٰ پیش کر دیا تھا۔ ان کا ماننا ہے کہ انہیں ان کے سیاسی تجربے اور قد کے مطابق محکمہ نہیں دیا گیا، اور انہوں نے کھلے عام اسے اپنی تذلیل قرار دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رام لنگا ریڈی بنگلورو ڈیولپمنٹ کا قلمدان حاصل کرنا چاہتے ہیں، جبکہ انہیں آبی وسائل کا محکمہ سونپا گیا ہے، جسے وہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

اس سیاسی بحران کو ٹالنے اور ناراض رہنما کو منانے کے لیے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے پانچ جون کی رات گئے جیانگر کے ایک نجی ہوٹل میں رام لنگا ریڈی سے طویل ملاقات کی۔ تقریباً اڑھائی گھنٹے تک جاری رہنے والی اس بیٹھک میں کانگریس کے دیگر سینئر رہنما اور ریڈی کے قریبی ساتھی بھی موجود تھے۔ اگرچہ وزیر اعلیٰ نے چھ جون کی صبح دعویٰ کیا کہ معاملات طے پا گئے ہیں اور یہ ہائی کمان کا فیصلہ ہے جسے بدلا نہیں جا سکتا، لیکن رام لنگا ریڈی کے قریبی ذرائع اس دعوے کی تردید کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے معاملہ اب مرکزی قیادت کے دربار میں پہنچ گیا ہے۔

محکموں کی تقسیم پر ناراضگی صرف رام لنگا ریڈی تک محدود نہیں ہے۔ سدارامیا کی سابقہ حکومت میں وزیر صحت کے فرائض انجام دینے والے سینئر رہنما دنیش گنڈو راؤ کو بھی اس بار نئی کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس معاملے پر ان کی اہلیہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک مبہم پیغام جاری کیا ہے جس میں کابینہ میں جگہ نہ ملنے کی جانب اشارہ کیا گیا ہے۔ اس صورتحال نے پارٹی کے اندر پائے جانے والے عدم اطمینان کو مزید بے نقاب کر دیا ہے۔

نئی حکومت کے قیام کے فوراً بعد سامنے آنے والی یہ رسہ کشی ڈی کے شیوکمار کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ کانگریس ہائی کمان کی کوشش ہے کہ جلد از جلد ان اختلافات پر قابو پا کر حکومت کی توجہ عوامی فلاحی کاموں اور انتخابی وعدوں کی تکمیل پر مرکوز کی جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ رندیپ سنگھ سرجے والا کے ساتھ ملاقات کے بعد رام لنگا ریڈی اپنا استعفیٰ واپس لیتے ہیں یا پارٹی کو کسی بڑے تنظیمی ردوبدل کا فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔

شیئر کریں۔