کرناٹک میں کینسر کے کیسز میں اضافہ، 6 ماہ میں 45 ہزار سے زائد مشتبہ مریض سامنے آئے

بنگلورو: کرناٹک میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران کینسر کے کیسز میں تشویشناک اضافہ سامنے آیا ہے۔ ریاستی محکمۂ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 45,153 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 8,894 افراد میں کینسر کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 8,045 مریض زیر علاج ہیں۔

محکمہ صحت و خاندانی بہبود کرناٹک کی ہوم ہیلتھ اسکیم کے تحت آشا کارکنوں نے بڑے پیمانے پر مہم چلاتے ہوئے گزشتہ چھ ماہ میں 88.84 لاکھ افراد کی اسکریننگ کی۔ اس دوران منہ، چھاتی (بریسٹ) اور سروائیکل کینسر پر خصوصی توجہ دی گئی۔

اعداد و شمار کے مطابق 52 لاکھ افراد کی منہ کے کینسر کی اسکریننگ میں 21,157 افراد میں علامات پائی گئیں، جن میں سے 3,964 کیسز کی تصدیق ہوئی۔ اسی طرح 20.70 لاکھ افراد کی بریسٹ کینسر اسکریننگ اور 16.7 لاکھ افراد کی سروائیکل کینسر اسکریننگ کے دوران مجموعی طور پر 11,998 افراد میں علامات سامنے آئیں، جن میں سے 3,272 بریسٹ کینسر اور 1,658 سروائیکل کینسر کے مریضوں کی تصدیق ہوئی۔

ماہرین کے مطابق طرزِ زندگی میں تبدیلی اس اضافے کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔ معروف کینسر اسپیشلسٹ ڈاکٹر یو ایس وشال راؤ نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں فاسٹ فوڈ اور کیمیکل ملا کھانوں کا بڑھتا استعمال، پانی کی کمی، جسمانی سرگرمیوں میں کمی اور غیر متوازن خوراک کینسر کے خطرات کو بڑھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق جسم میں چربی کی زیادتی اور ہارمونل عدم توازن بھی کینسر کے امکانات کو بڑھاتا ہے۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ متوازن غذا، مناسب وزن، روزانہ کم از کم 30 منٹ ورزش اور صحت مند طرز زندگی اپنائیں۔ اس کے ساتھ تمباکو، شراب اور نشہ آور اشیاء سے دور رہنے، ذہنی دباؤ کو کنٹرول کرنے اور مناسب نیند لینے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق کم عمر لڑکیوں کے لیے HPV ویکسین سروائیکل کینسر سے بچاؤ میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔