کرناٹک کی دو اہم اسمبلی نشستوں باگلکوٹ اور داونگیرے جنوبی پر ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج کا اعلان کل یعنی 4 مئی کو کیا جائے گا۔ انتخابی حکام کے مطابق ووٹوں کی گنتی کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور دونوں اضلاع میں سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ ان دونوں نشستوں پر 9 اپریل کو پولنگ ہوئی تھی جو سینئر کانگریس لیڈروں ایچ وائی میٹی اور شامانور شیوا شنکرپا کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھیں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق باگلکوٹ میں 68.74 فیصد جبکہ داونگیرے جنوبی میں 68.43 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی تھی۔ ووٹوں کی گنتی اتوار کی صبح 8 بجے شروع ہوگی اور دوپہر تک انتخابی نتائج کی تصویر واضح ہونے کی امید ہے۔ انتظامیہ نے باگلکوٹ میں یونیورسٹی آف ہارٹیکلچرل سائنسز اور داونگیرے میں ڈی آر آر اسکول کو گنتی کے مراکز میں تبدیل کیا ہے، جہاں ہر مرکز پر ای وی ایم مشینوں کی گنتی کے لیے 14 میزیں لگائی گئی ہیں۔
سیاسی اعتبار سے یہ ضمنی انتخابات ریاست کی سدارامیا حکومت اور اپوزیشن بی جے پی دونوں کے لیے وقار کا مسئلہ بن چکے ہیں۔ اگرچہ ان نتائج سے حکومت کی اکثریت پر کوئی فوری اثر نہیں پڑے گا، لیکن اسے موجودہ قیادت اور حکومتی کارکردگی پر عوامی فیصلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کانگریس نے ان دونوں نشستوں پر اپنے مرحوم لیڈروں کے اہل خانہ کو میدان میں اتارا ہے، جن میں باگلکوٹ سے امیش میٹی اور داونگیرے جنوبی سے سمرتھ ملکارجن شامل ہیں۔ دوسری جانب بی جے پی نے باگلکوٹ سے تجربہ کار لیڈر ویربھدریا چرنتی مٹھ اور داونگیرے سے نئے چہرے سری نواس داسکریاپا پر بھروسہ کیا ہے۔
داونگیرے جنوبی کی نشست کانگریس کے لیے سب سے زیادہ چیلنجنگ ثابت ہو رہی ہے کیونکہ یہاں مسلم کمیونٹی کی جانب سے ٹکٹ کی تقسیم پر شدید ناراضگی دیکھی گئی۔ اس حلقے میں مجموعی طور پر 25 امیدوار میدان میں ہیں جن میں سے 14 کا تعلق مسلم برادری سے ہے، جس کی وجہ سے ووٹوں کی تقسیم کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ کانگریس نے انتخابی مہم کے دوران مبینہ طور پر پارٹی کے خلاف کام کرنے والے مسلم رہنماؤں کے خلاف سخت کارروائی بھی کی ہے، جس میں ایم ایل سی کے عبدالکبار کی معطلی اور نصیر احمد کو وزیر اعلیٰ کے سیاسی سکریٹری کے عہدے سے ہٹانا شامل ہے۔
ریاست میں جاری اندرونی سیاسی کھینچ تان اور قیادت کی تبدیلی کی افواہوں کے درمیان یہ نتائج انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ 4 مئی کے نتائج کے بعد ریاست میں کابینہ کی توسیع یا رد و بدل کے حوالے سے بڑے فیصلے متوقع ہیں۔ بی جے پی ان انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے 2028 کے اسمبلی انتخابات سے قبل اپنے کارکنوں میں نئی روح پھونکنا چاہتی ہے، جبکہ کانگریس کے لیے اپنی دونوں نشستوں کا دفاع کرنا پارٹی کے اندرونی استحکام کے لیے لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔




