کیرالا ہائی کورٹ کے جج جسٹس اے محمد مشتاق نے اتوار کو سکم ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر اپنے عہدے کا باضابطہ حلف لیا۔ یہ حلف برداری کی تقریب سکم کی راجدھانی گنگٹوک میں واقع لوک بھون کے آشیرواد ہال میں منعقد ہوئی، جہاں ریاستی گورنر اسم پرکاش ماتھر نے انہیں حلف دلایا۔ اس موقع پر ریاست کی اعلیٰ سیاسی اور عدالتی شخصیات کی بڑی تعداد موجود تھی، جن میں وزیر اعلیٰ پریم سنگھ تمنگ، اسمبلی اسپیکر منگما نوربو شیرپا، ڈپٹی اسپیکر راج کماری تھاپا، کابینہ کے وزراء، اراکین اسمبلی، سینئر افسران اور عدلیہ کے معزز جج صاحبان شامل تھے۔ تقریب کے دوران ریاست میں عدالتی نظام کی مضبوطی اور انصاف کی بروقت فراہمی کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
جسٹس اے محمد مشتاق کی یہ تقرری سپریم کورٹ کے کولیجیم کی سفارش کے بعد عمل میں آئی ہے۔ کولیجیم کی سربراہی چیف جسٹس سوریہ کانت کر رہے ہیں، جن کی قیادت میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ جسٹس مشتاق کو سکم ہائی کورٹ کی قیادت سونپی جائے۔ اس سے قبل سکم ہائی کورٹ میں جسٹس میناکشی مدن رائے عبوری چیف جسٹس کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ خیال رہے کہ سکم ہائی کورٹ ہندوستان کا سب سے چھوٹا ہائی کورٹ مانا جاتا ہے، جہاں اب تک صرف دو جج تعینات تھے۔ جسٹس مشتاق کے باقاعدہ طور پر چارج سنبھالنے کے بعد عدالت میں ججوں کی تعداد تین ہو گئی ہے، جو اس ہائی کورٹ کی منظور شدہ مکمل تعداد ہے۔ عدالتی حلقوں کا ماننا ہے کہ ججوں کی مکمل تعداد سے کیسوں کی سماعت میں تیزی آئے گی اور زیرِ التوا مقدمات کو نمٹانے میں مدد ملے گی۔
یکم جون ۱۹۶۷ء کو پیدا ہونے والے جسٹس اے محمد مشتاق کا آبائی تعلق کیرالا کے کنور ضلع سے ہے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم کیرالا میں حاصل کی۔ اڈپی کے وی بی کالج آف لاء سے ایل ایل بی کرنے کے بعد انہوں نے مہاتما گاندھی یونیورسٹی، کیرالا سے لیبر لا میں ایل ایل ایم کی ڈگری حاصل کی۔ قانونی تعلیم کے ساتھ ساتھ انہوں نے بین الاقوامی قوانین میں بھی خصوصی مہارت حاصل کی۔ جسٹس مشتاق نے ۱۹۸۹ء میں وکالت کا آغاز کیا اور دورانِ وکالت اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ انہوں نے پیرس یونیورسٹی سے اسپیس اور ٹیلی کمیونیکیشن لاء کا کورس مکمل کیا، جبکہ ہیگ اکیڈمی سے پرائیویٹ انٹرنیشنل لاء کی تعلیم حاصل کی۔ ان کا شمار ان ججوں میں ہوتا ہے جنہیں ملکی اور بین الاقوامی قوانین دونوں پر گہری دسترس حاصل ہے۔
۲۰۱۴ء میں انہیں کیرالا ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کیا گیا اور ۲۰۱۶ء میں وہ مستقل جج بنائے گئے۔ بعد ازاں ۲۰۲۴ء سے وہ کیرالا ہائی کورٹ میں عبوری چیف جسٹس کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ عدالتی حلقوں میں ان کی شناخت ایک متوازن، اصول پسند اور آئینی اقدار کے پاسبان جج کے طور پر کی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ جسٹس مشتاق کے نام میں شامل حرف ’’اے‘‘ ان کے خاندانی نام ایو منتھ کتھ کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان کی تقرری کو نہ صرف سکم بلکہ پورے ملک میں عدالتی نظام کے استحکام اور شفافیت کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
