حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے معروف فری لانس صحافی اور مؤرخ حسن محی الدین صدیقی کو چنڈی گڑھ پولیس نے ایک ٹویٹ ری ٹویٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ پنجاب پولیس کے مطابق یہ کارروائی سیکٹر 26 پولیس اسٹیشن میں درج ایک مقدمے کے سلسلے میں کی گئی، جس کے بعد اتوار کے روز انہیں عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے انہیں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔
حسن صدیقی پر الزام ہے کہ انہوں نے ماہر تعلیم مدھو کشور کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ایسی ویڈیو کو دوبارہ پوسٹ کیا تھا جس میں مبینہ طور پر جعلی اور گمراہ کن معلومات موجود تھیں۔ پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ سوشل میڈیا پوسٹ میں غیر اخلاقی متن اور غلط شناخت کے ذریعے ایک آئینی عہدے دار کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور امن عامہ میں خلل ڈالنے کی کوشش کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ مدھو کشور نے بعد ازاں وہ ٹویٹ حذف کر دی تھی، تاہم پولیس نے ان کے خلاف پہلے ہی بھارتیہ نیا سنہتا (BNS) کی دفعات 196 (دشمنی کو فروغ دینا)، 336 (جعلسازی) اور 356 (ہتک عزت) کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق حسن صدیقی طویل عرصے سے "لبلبہ کی شدید سوزش” (Severe Pancreatitis) کے مرض میں مبتلا ہیں اور انہیں مستقل طبی دیکھ بھال کی ضرورت رہتی ہے۔ ان کی گرفتاری کے بعد صحافتی تنظیموں اور ان کے حامیوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایک ری ٹویٹ کی بنیاد پر دور دراز شہر سے کسی بیمار صحافی کو گرفتار کرنا آزادی اظہار پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔
پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک مقامی رہائشی کی شکایت پر یہ ایف آئی آر درج کی گئی تھی، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ مختلف صارفین دانستہ طور پر الیکٹرانک ریکارڈز میں ترمیم کر کے جھوٹ پھیلا رہے ہیں۔ حسن صدیقی جو کہ حیدرآباد کی تاریخ پر گہری نظر رکھنے کے لیے جانے جاتے ہیں، ان کی اچانک گرفتاری نے صحافتی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا سوشل میڈیا پر کسی مواد کو شیئر کرنا کسی فوجداری جرم کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔




