جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے ایم ایس سی بائیو ٹیکنالوجی کے طالب علم نجیب احمد کی پراسرار اور مبینہ جبری گمشدگی کو دس برس مکمل ہو چکے ہیں۔ 15 اکتوبر 2016 کو کیمپس کے ماہی مانڈوی ہاسٹل میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) سے وابستہ طلبا کی جانب سے مبینہ مار پیٹ کے بعد لاپتہ ہونے والے نجیب کا آج تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ اس المناک واقعے کے ایک دہائی مکمل ہونے پر کیمپس میں طلبا تنظیموں نے ایک بار پھر انصاف اور احتساب کے لیے پرزور آواز بلند کی ہے، جبکہ نجیب کی والدہ فاطمہ نفیس اتر پردیش کے شہر بدایوں میں آج بھی اپنے لخت جگر کی واپسی کی امید لگائے بیٹھی ہیں۔
یونیورسٹی کیمپس میں برسا امبیڈکر پھولے اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (باپسا)، فرینٹرنٹی موومنٹ اور مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن (ایم ایس ایف) کی جانب سے ’نجیب کے لیے انصاف‘ کے عنوان سے ایک احتجاجی مارچ نکالا گیا۔ یہ مارچ براک ہاسٹل سے شروع ہو کر یونیورسٹی کے مرکزی دروازے پر اختتام پذیر ہوا۔ مظاہرین نے دہلی پولیس، سی بی آئی اور متعلقہ تحقیقاتی اداروں کی مکمل ناکامی کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ طلبا نے اس معاملے کو ملک میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا اور اقلیتی طلبا کے عدم تحفظ سے تعبیر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ملک کی سب سے بڑی تحقیقاتی ایجنسیاں ایک دہائی بعد بھی ایک طالب علم کا سراغ لگانے میں کیوں ناکام رہیں۔
اس کیس کی تحقیقات دہلی پولیس، اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی)، کرائم برانچ اور بالآخر سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے سپرد کی گئیں، لیکن کسی بھی ادارے کی جانب سے کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہ آ سکی اور بالآخر معاملہ ایک نامکمل رپورٹ پر ٹھنڈا پڑ گیا۔ مظاہرین نے نہ صرف تحقیقاتی ایجنسیوں بلکہ اس وقت کی جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کی بائیں بازو کی قیادت کے کردار پر بھی شدید اعتراضات اٹھائے۔ مظاہرین کا الزام تھا کہ اس وقت ہاسٹل وارڈن کو لکھے گئے خطوط میں نجیب کے کردار کو مشکوک بنا کر پیش کیا گیا، جس نے بعد میں پولیس اور انتظامیہ کے لیے کیس کو کمزور کرنے کی بنیاد فراہم کی۔
احتجاج کے دوران اسٹوڈنٹ لیڈران نے کیمپس اور اس کے باہر مسلم طلبا کے خلاف تعصب کے ماحول پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ طلبا نمائندوں کا کہنا تھا کہ نجیب کا معاملہ صرف ایک لاپتہ فرد کا نہیں بلکہ یہ سوال ہے کہ اقلیتی شناخت کے حامل طالب علم کے ساتھ کھڑے ہونے میں پورا انتظامی نظام کس طرح ناکام ہوا۔ مظاہرے میں شرجیل امام اور عمر خالد جیسے زیر حراست طلبا کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نجیب کے نام اور انصاف کی جدوجہد کو عوامی یادداشت سے کسی صورت مٹنے نہیں دیا جائے گا۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے بھی نجیب احمد کی گمشدگی کے معاملے پر مرکزی حکومت اور تحقیقاتی اداروں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے پارلیمنٹ اور عوامی حلقوں میں دہلی کی سڑکوں پر ہونے والے پرانے مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سی بی آئی کی رپورٹیں آنے کے باوجود بدایوں کا بیٹا آج تک لاپتہ ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کم از کم اس کی بوڑھی ماں کو سچائی سے آگاہ کیا جائے تاکہ ان کے دل کو قرار آ سکے۔




