اتر پردیش کے ضلع رام پور میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی انتظامیہ کو مراد آباد کے ڈویژنل کمشنر کی عدالت سے بڑی عبوری راحت ملی ہے۔ کمشنر کورٹ نے یونیورسٹی کیمپس میں واقع 38 عمارات کی مجوزہ مسماری کے حکم پر حتمی سماعت تک عارضی روکو حکم (اسٹے) جاری کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے فی الحال یونیورسٹی کے ڈھانچے کو مسمار کرنے کی انتظامی پیش رفت رک گئی ہے، جس سے ادارے اور وہاں زیر تعلیم ہزاروں طلبہ نے اطمینان کا سانس لیا ہے۔
ڈویژنل کمشنر انجنے کمار سنگھ کے مطابق، یونیورسٹی کے کونسل کی جانب سے پیش کی گئی درخواست کو قبول کرتے ہوئے مزید احکامات تک کسی بھی ساخت کو گرانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ منگل کو ہونے والی باقاعدہ سماعت مراد آباد کے ایک وکیل کے انتقال کے باعث تعزیتی اجلاس کی وجہ سے ملتوی کر دی گئی۔ کمشنر نے واضح کیا کہ تمام فریقین کے دائل سننے اور دستاویزات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد ہی اس معاملے میں حتمی فیصلہ صادر کیا جائے گا۔
یہ تنازعہ اس وقت پیدا ہوا تھا جب رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) نے 15 جولائی کو اتر پردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ 1973 کے تحت نوٹس جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ کیمپس کی 40 میں سے 38 عمارات بغیر منظور شدہ نقشے کے تعمیر کی گئی ہیں۔ اتھارٹی نے یونیورسٹی انتظامیہ کو 15 دن کے اندر اندر ان عمارات کو خود مسمار کرنے کی ہدایت دی تھی، جس کی مدت ختم ہونے سے قبل ہی یونیورسٹی نے قانونی چارہ جوئی کرتے ہوئے اپیل دائر کی تھی۔
اس فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے یونیورسٹی کے بانی اور سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان کی اہلیہ و سابق رکن پارلیمنٹ تزئین فاطمہ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اس ادارے کے تحفظ کے لیے آخری حد تک جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر فیصلہ ہمارے حق میں نہیں آتا تو ہم ہائی کورٹ اور ضرورت پڑنے پر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ انہوں نے سرکاری تحویل میں لینے کی قیاس آرائیوں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتی تعلیمی اداروں کو آئینی تحفظ حاصل ہے اور طلبہ نے عزم کیا ہے کہ عمارتیں گرائے جانے کے باوجود وہ درختوں کے نیچے بیٹھ کر اپنی تعلیم جاری رکھیں گے۔
دوسری جانب، یونیورسٹی کیمپس میں طلبہ کا پرامن احتجاجی دھرنا مسلسل 12 ویں دن بھی جاری رہا، جسے مقامی لوگوں اور سماج وادی پارٹی سمیت مختلف سماجی تنظیموں کی وسیع حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ اعظم خان کے قریبی ساتھی عاصم رضا نے انتباہ دیا ہے کہ اگر زبردستی انہدام کی کوشش کی گئی تو شدید عوامی احتجاج کیا جائے گا۔ اقلیتی تعلیمی اداروں پر ہونے والے اس نوعیت کے انتظامی دباؤ کو علاقے میں تعلیم اور آئینی حقوق پر حملے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔




