جوہر یونیورسٹی انہدامی نوٹس کے خلاف آلہ باد کے وکلا نے گورنر کو لکھا خط

لکھنؤ: اتر پردیش کے ضلع رام پور میں واقع مشہور تعلیمی ادارے مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کی ۴۰ میں سے ۳۸ عمارتوں کو منہدم کرنے کے سرکاری نوٹس پر ریاست کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید کہرام مچ گیا ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی اس کارروائی کو مسلم برادری کی تعلیمی ترقی کو روکنے اور سیاسی انتقام کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے ملک کی ممتاز اپوزیشن قیادت، مسلم پرسنل لا بورڈ اور وکلاء برادری نے سڑک سے لے کر قانونی محاذ تک احتجاج شروع کر دیا ہے۔

دستیاب رپورٹوں کے مطابق، عام آدمی پارٹی کے اتر پردیش انچارج اور راجیہ سبھا کے رکن سنجے سنگھ نے لکھنؤ میں ایک سخت گیر پریس کانفرنس کرتے ہوئے بی جے پی حکومتوں کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ مودی اور یوگی حکومتیں ملک کی آنے والی نسلوں کو معیاری تعلیم سے محروم رکھنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک طرف بنیادی تعلیمی ڈھانچے کو تباہ کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف سیاسی دشمنی کی بنیاد پر پہلے سے قائم اعلیٰ تعلیمی اداروں کو بلڈوزر کے ذریعے مٹانے کی کوششیں جاری ہیں۔ سنجے سنگھ نے خبردار کیا کہ یہ محض اینٹ اور گارے کی عمارت کو گرانے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ وہاں زیر تعلیم ہزاروں طلباء اور مستقبل میں داخلہ لینے والے نوجوانوں کے روشن مستقبل پر براہ راست حملہ ہے۔

اس دوران آزاد سماج پارٹی کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ چندر شیکھر آزاد عرف راون نے بھی اس کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے یونیورسٹی کے تحفظ کے لیے میدان میں آنے کا واضح اشارہ دیا ہے۔ دوسری طرف عدالتی اور قانونی حلقوں میں بھی اس فیصلے کے خلاف شدید بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ پریاگ راج (الٰہ آباد) میں وکلاء کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے سٹی مجسٹریٹ ستیم مشرا سے ملاقات کر کے ریاست کی گورنر کے نام ایک تفصیلی میمورنڈم سونپا ہے۔ اس موقع پر سینئر ایڈوکیٹ حنظلہ فاروقی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک گھر، اسکول یا یونیورسٹی کو بنانے میں نسلوں کی محنت اور برسوں کا وقت صرف ہوتا ہے، لیکن موجودہ حکومت انتظامی اختیارات کا غلط استعمال کر کے چند لمحوں میں ان تعلیمی خوابوں کو چکنا چور کر رہی ہے۔ انہوں نے گورنر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس غیر آئینی انہدامی کارروائی پر فوری نظر ثانی کا حکم جاری کریں۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی اس معاملے پر اپنا سخت موقف اختیار کرتے ہوئے جوہر یونیورسٹی کی عمارتوں کو گرانے کے نوٹس کو یکطرفہ، جانبدارانہ اور غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ بی جے پی حکومت کی یہ جارحیت صرف ایک ادارے تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ اقلیتی برادری بالخصوص مسلمانوں کے تعلیمی حقوق اور ان کی سماجی ترقی کو نشانہ بنانے کی ایک منظم کوشش ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ نے اتر پردیش کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس تفرقہ انگیز اور انتقامی مہم کو فی الفور روکے، ورنہ اس کے خلاف وسیع تر جمہوری احتجاج منظم کیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، رام پور کی جوہر یونیورسٹی طویل عرصے سے سیاسی ریشہ دوانیوں کا مرکز بنی ہوئی ہے اور موجودہ حکومت کی جانب سے املاک کو منہدم کرنے کا حالیہ نوٹس ریاست میں اقلیتوں کے اداروں کے تحفظ کے حوالے سے سنگین آئینی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ تعلیمی اداروں کو سیاسی حساب کتاب برابر کرنے کے لیے استعمال کرنا بین الاقوامی تعلیمی قوانین اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس کے خلاف تمام انصاف پسند طبقات متحد ہو رہے ہیں۔

شیئر کریں۔