ٹوکیو : جنوب مغربی جاپان کا ساحلی خطہ منگل کے روز 7.1 شدت کے طاقتور زلزلے سے لرز اٹھا۔ زلزلے کے بعد حکام نے سونامی سے متعلق جاری کی گئی ایڈوائزری ایک گھنٹے کے اندر واپس لے لی، تاہم اس قدرتی آفت میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ بڑے پیمانے پر مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مقامی وقت کے مطابق شام 4:27 بجے (07:27 GMT) کیوشو جزیرے کے اندرونی علاقے میں آنے والے اس زلزلے کے فوراً بعد 150,000 سے زائد افراد کو احتیاطاً محفوظ مقامات اور ہنگامی پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی گئی۔
جاپانی محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ زلزلے کا مرکز صرف 10 کلومیٹر کی گہرائی میں ہونے کی وجہ سے آئندہ چند گھنٹوں اور دنوں میں شدید آفٹر شاکس (بعد کے جھٹکوں) کا خدشہ برقرار ہے۔ جاپان کے سرکاری نشریاتی ادارے این ایچ کے (NHK) کی نشر کردہ تصاویر میں سڑکوں اور پلوں میں پڑنے والی بڑی دراڑیں اور متعدد عمارتوں میں آگ بھڑکتی ہوئی دیکھی جا سکتی ہے۔ وزیراعظم ثناء تاکائیچی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جانی و مالی نقصانات کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق زخمیوں میں تقریباً 10 افراد ایک اولڈ ایج ہوم کے رہائشی ہیں، جبکہ 50 سے زائد افراد مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
دوسری جانب جاپانی حکومت نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ چیف کیبنٹ سکریٹری منورو کیہارا نے بتایا کہ جاپانی سیلف ڈیفنس فورسز، فائر سروسز اور کوسٹ گارڈ سمیت تمام متعلقہ اداروں کو متاثرہ علاقوں میں روانہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔ زلزلے کے باعث کئی علاقوں میں ٹرین سروس معطل کر دی گئی ہے جبکہ ہزاروں مکانات بجلی سے محروم ہو گئے ہیں۔




