محبتیں بانٹنے والے نظام الدین دامدا( بڈور) کا سانحہ ارتحال

تحریر: سید علی رضایس یم

آج 28/ اپریل بروز منگل فجر کی اذان سے پہلے ممبئی سے جناب نظام الدین دامدا صاحب کے انتقال نے راقم کو بے حد افسردہ کردیا، اناللہ وانا الیہ راجعونمرحوم نظام الدین دامدا صاحب سے راقم کے تعلقات بہت پرانے تھے، وقتا فوقتا بھٹکل حاضری پر اکثر ملاقاتیں ہوتی رہتی تھی، جب بھی آپ سے ملاقات ہوتیں تو بڑی محبت سے ملتے اور گفتگو کرتے اور گھر کے افراد کو خاص کرکے اپنی طرف سے سلام ضرور کہتے، کچھ مہینے پہلے بھٹکل حاضری پر کسی کے جنازے میں شرکت پر جامع مسجد میں ملاقات ہوئی، میں نے نماز جنازہ سے فراغت کے بعد آپ سے کہا: آپ میرے ساتھ چلو، میں آپ کو جہاں جانا ہے چھوڑ دیتا ہوں، اپنے بیٹے کو فون کرکے کہا ، آپ مجھے لینے مت آئیے ، میں ان شاءاللہ گھر پہنچ جاؤں گا۔۔میں ان کو لے کر حسن قاضیا مسجد کے پڑوس میں ان کے گھر پہنچ گیا، مجھے اپنے گھر کے اندر بلایا، اپنی زوجہ محترمہ سے پوچھا، آپ ان کو جانتی ہو، ان کی زوجہ محترمہ کے والد سید شفیع یس جے اور میری والدہ ماجدہ آپس میں چچا زاد بھائی بہن ہونے کی وجہ سے وہ تو بہت پہلے سے مجھے اچھی طرح جانتی تھی، پھر راقم کی مہمان نوازی فرمائی اور میں کچھ دیر ان سے گھر میں بیٹھ کر گفتگو کرتا رہا،میں نے باتوں میں باتوں میں کہا، ایسالگتا ہے آپ بہت جلد سب کے ساتھ بہت فری ہوجاتے ہوں۔ انھوں نے اس پر ایک بات فرمائی، میں جہاں بھی جاتا ہوں، چاہے سفر پر ہوں یا دوسرے اجنبی شہروں میں بھی مجھے جانا پڑے، میں سامنے والے سے بات کرتے کرتے کچھ ہی منٹوں میں سامنے والے کے دل میں جگہ بنا لیتا ہوں، سامنے والا زندگی میں پہلی بار ہی ملاقات کرنے والا بھی کیوں نہ ہو، وہ گفتگو کرتے کرتے ہمارے پرانے دوست کی طرح ہی بن جاتا ہیں ۔اسی وجہ سے مجھے کہیں بھی اجنبی جگہوں پر بھی کبھی اجنبیت محسوس نہیں ہوتی،آپ کو اللہ تعالی نے تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی ذہانت عطا فرمائی تھی، آپ نے اس زمانے میں مینگلور سے puc کی تعلیم مکمل کی تھی، جس زمانے میں ہمارے علاقے کا لوگوں کا Sslc کرنا بھی بہت کم تھا، آپ تعلیم کے ساتھ ساتھ حالات حاضرہ سے بھی اچھی واقفیت رکھتے تھے، وطن سے دور رہنے کے باوجود اپنے علاقے کی ہر خبر سے واقفیت سے رکھتے تھے، آپ راقم کے بھٹکل کے دونوں سوشل میڈیا گروپ میں خود رابطہ کرکے شامل ہوئے تھے، جس میں بھٹکل کی خبریں دی جاتی ہیں۔۔ ممبئی اور بھٹکل میں اپنے کسی قریبی کی وفات پر خود راقم سے رابطہ کرکے خبر دیتے تھے، کبھی کبھار آپ کے قریبی مرحومین کی وفات پر بھی مضمون لکھنے کے لیے راقم نے آپ سے فون کرکے معلومات لی ہیں، آپ کی دی ہوئی معلومات پکی اور صحیح ہوتی تھی،غرض آپ سب کے ساتھ محبتیں بانٹنے والے انسان تھے، جس کی آج کے دور میں بہت کمی پائی جارہی ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالٰی آپ کی بال بال مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے ، سیئات کو حسنات میں مبدل فرمائے، آپ کی اچھی صفات کو اپنا کر اس پر عمل کرتے ہوئے ہمیں اپنی زندگی گزارنے کی توفیق نصیب فرمائے،

آمین یا رب العالمین۔

شیئر کریں۔