بھٹکل : معہد الامام حسن البنا کے جامعۃ الطیبات سے امسال 20 حافظات نے کی حفظ کی تکمیل ، اعزاز میں منعقد ہوا پروگرام

بھٹکل (فکروخبرنیوز) معہد الامام حسن البنا بھٹکل کے زیرِ اہتمام جامعۃ الطیبات کی امسال کی 20 حافظات کے اعزاز میں ایک روح پرور جلسہ بروز سنیچر، 5 شعبان 1447ھ مطابق 24 جنوری 2026ء کو ڈھائی بجے، سکون ہال، شمس الدین روڈ، نوائط کالونی بھٹکل میں منعقد ہوا۔

جلسے کا آغاز ایک طالبہ کی خوش الحان قرأتِ قرآن مع ترجمہ سے ہوا۔ اس کے بعد پرترنم انداز میں نعتِ شریف پیش کی گئی، پھر معہد کی سالانہ رپورٹ پیش کی گئی۔

اس موقع پر بعض طالبات نے اپنے تاثرات اور حفظِ قرآن کے تجربات بیان کیے۔ ایک طالبہ، منکی سے حفظ کے لیے آنے والی ایک طالبہ نے جذباتی انداز میں کہا کہ ہمیں جنون کی حد تک لگن تھی کہ کسی نہ کسی طرح حافظِ قرآن بننا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس جذبے کی لاج رکھی اور صرف پندرہ ماہ کی قلیل مدت میں انہیں حفظِ قرآن کی عظیم سعادت عطا فرمائی۔

مہمانِ خصوصی محترمہ شکیلہ صاحبہ (جامعہ صالحات، مالیگاؤں) نے حافظات کے لیے اپنے حوصلہ افزا کلمات میں قرآن کے مطالعے کی ترغیب دی اور خواتین کو اپنی دینی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتے ہوئے قرآن سے تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی تلقین کی۔

دورانِ جلسہ معہد سے شائع شدہ پانچ نئی کتابوں کا اجرا محترمہ شکیلہ صاحبہ کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ انہوں نے کتابوں کا تعارف کرایا اور مطالعے کی ترغیب دی۔ جن میں  طہارت اور خواتین، زکوٰۃ اور خواتین، روزہ اور خواتین، حج اور خواتین، طہارت اور نماز وغیرہ ہیں۔ ان کتابوں کی اصل قیمت 820 روپے تھی، مگر جلسے کی مناسبت سے خصوصی رعایت کے ساتھ صرف 300 روپے میں تقسیم کی گئیں۔

جلسے میں حضرت مولانا محمد صادق صاحب اکرمی ندوی دامت برکاتہم نے خواتین سے خطاب فرمایا، حافظات کا ختمِ قرآن کرایا اور ختم قرآن کی دعا فرمائی۔ اس موقع پر ادارے کے بانی و ناظم مولانا محمد ناصر سعید اکرمی نے سکون ہال کے مالک محمد نعمان سقاف صاحب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس عظیم الشان قرآنی جلسے کے لیے اپنا ہال فراہم کیا۔ فجزاہم اللہ احسن الجزاء۔

جلسے کی نظامت جامعۃ الطیبات کی پرنسپل صاحبہ نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی۔ معلمات اور طالبات نے پروگرام کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آخر میں حافظات اور معلمات میں انعامات تقسیم کیے گئے، منتظمین نے مہمانوں اور تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا، جبکہ جلسے میں خاطر خواہ تواضع کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔

امسال کی اسمائے حافظات

(1)حافظہ حِنا بنت عبد الحمید شاہ بندری

(2)حافظہ مریم بنت عبدالرافع قاضی

(3)حافظہ ہاجرہ زائنہ بنت عبدالمقیت موٹیا

(4)حافظہ فہمیدہ بنت فضل علی یس یم

(5)حافظہ ارویٰ بنت محمد رفیق پلور

(6)حافظہ حلیمہ سدرہ بنت مطلب دامدا

(7)حافظہ عظمیٰ فوزیہ بنت مسعود دامودی

(8)حافظہ عظمیٰ بنت محمد شعیب قاضی

(9)حافظہ مہر النساء  بنت محی الدین نیلاور

(10)حافظہ رانیہ بنت باشاہ شیخ

(11)حافظہ فاطمہ بنت سید ابرار بافقیہ

(12)حافظہ رشدیٰ بنت محمد سلیم دامدا

(13)حافظہ مارِیہ فیض بنت محمد حسین قاضی

(14)حافظہ مریم بنت محمد مصدق دامدا

(15)حافظہ فاطمہ زہراء بنت عبد الحلیم سعدا

(16)حافظہ امیمہ درہ بنت انیس الرحمن پرواز

(17)حافظہ فاطمہ بنت محمد ناصر صدیقہ

(18)حافظہ نسیم بنت مولا یم جے

(19)حافظہ آرمش بنت سید ہاشم یس جے

(20)حافظہ آسیہ بنت بلال رکن الدین

(موصولہ رپورٹ میں ترمیم کے ساتھ)