جامع مسجد بسرور کی توسیع کے بعد افتتاح : علماء کا دین کی دعوت اور نئی نسل کی تربیت پر زور

بسرور (فکروخبرنیوز) جامع مسجد بسرور کی توسیع کے بعد تعمیر شدہ پہلی منزل کا افتتاح آج صبح امام و خطیب جامع مسجد بھٹکل مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی اور امام و خطیب جامع مسجد کنڈلور مولانا محمد الیاس ندوی کے ہاتھوں انجام پایا۔

افتتاحی خطاب میں مولانا عبدالعلیم ندوی نے برادرانِ وطن کے ذمہ داران کی شرکت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں ہماری پہلی ذمہ داری دین و شریعت پر کاربند رہنا ہے اور دوسری ذمہ داری حق کا پیغام عام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خود دین کو سمجھ کر دوسروں تک اس کا پیغام پہنچانے کی سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے۔ مولانا نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کی نعمتیں اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے اس لیے پیدا کی ہیں کہ وہ ان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے رب کی معرفت حاصل کرے۔ انہوں نے آخرت کی جوابدہی اور نئی نسل کے ایمان و تربیت کی فکر کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

امام و خطیب جامع مسجد کنڈلور مولانا محمد الیاس ندوی نے کنڑا زبان میں اذان اور نماز کے مفہوم کو واضح کرتے ہوئے حضرت مولانا علی میاں ندویؒ کا ایک سبق آموز واقعہ بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک غیر مسلم شخص نے نماز کے دوران ’’اللہ اکبر‘‘ کے الفاظ کو مغل بادشاہ اکبر سے منسوب کر لیا، جس سے یہ احساس ہوا کہ برسوں ساتھ رہنے کے باوجود ہم نے اپنے پڑوسیوں تک اذان کا مفہوم نہیں پہنچایا۔ انہوں نے دعوتی ذمہ داریوں کی ادائیگی پرزوردیتے ہوئے خود بھی دین وشریعت پر کاربند ہونے کی نصیحت کی۔

پروگرام میں مسلم اور برادرانِ وطن سے تعلق رکھنے والے مہمانوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مسجد کی توسیع پر مسرت کا اظہار کیا۔

پروگرام کا آغاز تعارفی کلمات سے ہوا۔ مولانا عبدالسبحان ندوی نے استقبالیہ خطاب پیش کرتے ہوئے مسجد کی تعمیر و توسیع میں حصہ لینے والے تمام باشندگانِ بسرور کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بالخصوص خلیجی ممالک میں مقیم بسرور سے تعلق رکھنے والے افراد کی مالی و اخلاقی معاونت کو سراہتے ہوئے کمیٹی کی جانب سے اظہارِ تشکر کیا۔

اس موقع پر مسجد کمیٹی کی جانب سے امام و خطیب مولانا عمران ندوی اور مؤذن حافظ مسعود کی تہنیت کی گئی۔

اس موقع پر معززینِ شہر، علماء کرام اور مقامی باشندگان کی بڑی تعداد موجود تھی۔