غزہ کے گنجان آباد علاقے شیخ رضوان میں اسرائیلی فوج کے سفاکانہ فضائی حملے نے ایک بار پھر انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ منگل کے روز پیش آنے والے اس واقعے میں اسرائیلی طیاروں نے دانستہ حکمتِ عملی کے تحت ایک کے بعد ایک دو فضائی حملے کیے، جس کی زد میں آ کر زخمیوں کی جان بچانے کی کوشش کرنے والا پندرہ سالہ کمسن فلسطینی حافظِ قرآن محمد عبدالرحمن الزیناتی اور تیئیس سالہ فلسطینی سول ڈیفنس پیرامیڈک شریف شادی ابراہیم لباد موقع پر شہید ہو گئے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق اس دوہرے حملے اور اس کے متوازی کارروائیوں میں کم از کم تین شہری لقمۂ اجل بنے جبکہ ستائیس سے زائد شدید زخمی ہوئے۔
مقامی ذرائع اور شہاب نیوز ایجنسی کے بیانات کے مطابق پندرہ سالہ محمد عبدالرحمن الزیناتی مسجد میں قرآن پاک کے حفظ اور دور کی مجلس سے فارغ ہو کر اپنے گھر کی طرف لوٹ رہا تھا کہ اچانک قریبی مقام پر پہلا میزائل گرا۔ حملے کے نتیجے میں ایک راہگیر کو خون میں لت پت دیکھ کر کمسن محمد اور مقامی سول ڈیفنس کے رضاکار انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت زخمی کی ابتدائی طبی امداد اور اسے محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے دوڑے۔ اسی دوران اسی مخصوص جگہ پر چند منٹوں کے وقفے سے دوسرا میزائل داغ دیا گیا، جس نے جائے وقوعہ پر موجود ریسکیو اہلکاروں اور نہتے شہریوں کو براہِ راست نشانہ بنایا۔
جنگی اصطلاح میں اس طریقۂ واردات کو ’ڈبل ٹیپ حملہ‘ کہا جاتا ہے، جس کا واحد مقصد پہلے حملے میں زندہ بچ جانے والوں، طبی امداد پہنچانے والے پیرا میڈیکل عملے، فائر فائٹرز اور جائے وقوعہ پر مدد کے لیے جمع ہونے والے شہریوں کو بڑے پیمانے پر جانی نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا پر سامنے آنے والی مصدقہ ویڈیوز میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ جس وقت بمباری کی گئی، اس وقت شہری مکمل طور پر خون آلود زخمی کو اسٹریچر اور گاڑی کی طرف منتقل کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین اور جنیوا کنونشن کے تحت طبی و امدادی کارکنان کو نشانہ بنانا کھلم کھلا جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
یہ خونی واقعہ ایک ایسے وقت میں رونما ہوا ہے جب واشنگٹن کی جانب سے اسرائیل کے لیے دو اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر کے نئے اور غیر معمولی مہلک اسلحہ پیکیج کی تیاری آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس پیکیج میں نو سو سات کلوگرام یعنی دو ہزار پاؤنڈ وزنی بیس ہزار ایم کے چوراسی تباہ کن بم، بیس ہزار بی ایل یو ون ون سیون شدید دھماکہ خیز بم، اور زیرِ زمین گہرے بنکرز اور ٹھکانوں کو ریزہ ریزہ کرنے والے پینیٹریٹر وار ہیڈز شامل ہیں۔ امریکی فارن ملٹری فائنانسنگ پروگرام کے تحت فراہم کیے جانے والے اس پیکیج کے حوالے سے امریکی کانگریس کو غیر رسمی طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے، جس پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔




