سعودی عرب , ترکی اور پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے جمعرات کو اسرائیل کے اس متنازع قانون کی مذمت کی ہے جس کے تحت اسرائیلیوں پر مہلک حملے میں مجرم پائے جانے والے فلسطینیوں کو سزائے موت دیے جانے کی فوجی عدالتوں کو اختیار دیا گیا ہے۔
ترکی، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اپنے مذمتی بیان میں "ایسے اقدامات سے گریز کرنے کی فوری ضرورت” پر زور دیا ہے جس سے زمینی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
مسلم ممالک سے قبل آسٹریلیا، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور اٹلی سمیت چار یورپی ممالک نے اسرائیل سے اس قانون کو ترک کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اس کے نتائج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سزائے موت کو غیر انسانی، توہین آمیز اور امتیازی قرار دیا ہے۔
اسرائیل کے اس متنازعہ قانون کے خلاف مقبوضہ مغربی کنارے اور خود اسرائیل میں سماجی تنظیموں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اس قانون کو نسلی امتیاز کے نظام کو مزید مضبوط کرنے کی جانب ایک قدم سے تعبیر کیا ہے۔
اسرائیل کے نئے قانون کے تحت ان فلسطینیوں کو سزائے موت دی جائے گی جو ایسی کارروائیوں میں ملوث پائے جائیں گے جن میں اسرائیلی ہلاک ہوئے ہوں۔
اس قانون کے اطلاق کے طریقہ کار میں اسرائیل کے اندرونی علاقوں اور مقبوضہ مغربی کنارے کے درمیان تفریق رکھی گئی ہے، مغربی کنارے میں سزائے موت کو بنیادی سزا قرار دیا گیا ہے تاہم فوجی عدالت کو استثنائی طور پر مخصوص حالات میں عمر قید کی سزا دینے کا اختیار ہوگا، جبکہ وزیر دفاع اس حوالے سے عدالتی پالیسی کا تعین کریں گے۔
اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں سے متعلق جانکاری رکھنے والے کلب آف پریزنرس کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں 9500 فلسطینی اور عرب قیدی ہیں۔
