ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان ایک بار پھر آبنائے ہرمز پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکی ناکہ بندی ختم ہونے تک یہ اہم سمندری راستہ مکمل طور پر بحال نہیں کیا جائے گا۔ ایرانی حکام نے امریکی اقدامات پر شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن جب تک ایرانی بندرگاہوں اور بحری نقل و حرکت پر دباؤ برقرار رکھے گا، تب تک ہرمز میں صورتحال معمول پر نہیں آئے گی۔
ایران نے ایک روز قبل 17 اپریل کو اعلان کیا تھا کہ عارضی جنگ بندی کے دوران تجارتی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کھولا جا رہا ہے اور کاروباری جہاز گزر سکتے ہیں۔ اس اعلان کے بعد کچھ بحری جہاز اس راستے سے گزرتے بھی دیکھے گئے تھے، تاہم صرف 24 گھنٹوں کے اندر تہران نے موقف بدلتے ہوئے دوبارہ سخت پابندیوں کا اعلان کر دیا۔
ایرانی فوجی قیادت نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول اب "پہلی حالت” میں واپس آ گیا ہے اور یہ آبی گزرگاہ مکمل نگرانی میں رہے گی۔ ایرانی حکام کے مطابق جب تک ایران سے آنے اور ایران جانے والے جہازوں کو مکمل آزادی نہیں ملتی، اس راستے پر سخت انتظامات برقرار رہیں گے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر بحری ناکہ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک تہران جوہری پروگرام پر بڑا معاہدہ نہیں کرتا۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکہ دوبارہ فوجی کارروائی پر غور کر سکتا ہے۔
ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (IRGC) نے امریکی ناکہ بندی کو "سمندری ڈکیتی” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ امریکہ بین الاقوامی پانیوں میں طاقت کے زور پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ اسی دوران بعض بحری سلامتی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ہرمز کے قریب جہازوں کو خطرات اور فائرنگ جیسے واقعات کا بھی سامنا کرنا پڑا، جس سے کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تجارتی اور تیل بردار راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر بڑی مقدار میں خام تیل اور گیس گزرتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی رکاوٹ سے تیل کی قیمتوں، عالمی تجارت اور مشرق وسطیٰ کی سلامتی پر فوری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق تازہ بحران سے عالمی منڈیوں میں بے یقینی مزید بڑھے گی۔
مشرق وسطیٰ میں جاری تناؤ، ایران امریکہ محاذ آرائی اور جوہری مذاکرات کی غیر یقینی صورتحال نے واضح کر دیا ہے کہ خطے میں امن اب بھی نازک مرحلے میں ہے۔ اگر دونوں ممالک نے لچک نہ دکھائی تو آبنائے ہرمز کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔




