آبنائے ہرمز پر کنٹرول سے لے کر پابندیوں کے خاتمے تک ،ایران کا 10نکاتی منصوبہ سامنے آگیا

فکروخبر نیوز:
ایران نے امریکہ کے ساتھ مجوزہ مذاکرات سے قبل اپنا 10 نکاتی منصوبہ پیش کر دیا ہے، جس میں جنگ کے خاتمے سے لے کر خطے میں امریکی افواج کے انخلا اور عالمی پابندیوں کے خاتمے تک بڑے اور فیصلہ کن مطالبات شامل ہیں۔ یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے اور 11 اپریل سے اسلام آباد میں مذاکرات شروع ہونے والے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ایران کے اس منصوبے میں سب سے اہم نکتہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول سے متعلق ہے، جہاں ایران نے واضح کیا ہے کہ بحری گزرگاہ کو ایرانی افواج کے تعاون سے منظم کیا جائے گا، جس سے اسے ایک منفرد معاشی اور جغرافیائی برتری حاصل ہوگی۔ اسی کے ساتھ ایران نے “محورِ مزاحمت” کے خلاف جاری تمام جنگوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے، جو دراصل خطے میں ایران کے اتحادی گروپوں کے تحفظ سے جڑا ہوا ہے۔
ایران نے اپنے منصوبے میں یہ بھی کہا ہے کہ امریکہ کو خطے میں موجود اپنے تمام فوجی اڈوں اور تعیناتیوں سے انخلا کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں محفوظ ٹرانزٹ کے لیے ایسا نظام قائم کرنے کی بات کی گئی ہے جو ایران کی بالادستی کو یقینی بنائے۔ یہ مطالبہ عالمی سطح پر نہایت حساس سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس کا براہ راست تعلق عالمی تیل سپلائی اور تجارتی راستوں سے ہے۔
معاشی محاذ پر ایران نے جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کی مکمل ادائیگی کا مطالبہ بھی کیا ہے، ساتھ ہی تمام بنیادی اور ثانوی پابندیوں کے خاتمے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور دیگر اداروں کی قراردادوں کو ختم کرنے کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔ مزید برآں ایران نے بیرون ملک منجمد اپنے تمام اثاثوں کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا ہے، جو طویل عرصے سے عالمی پابندیوں کے باعث رکے ہوئے ہیں۔
اس منصوبے کا آخری اور اہم ترین پہلو یہ ہے کہ ان تمام نکات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک باضابطہ اور پابند قرارداد کے ذریعے نافذ کیا جائے، تاکہ مستقبل میں کسی بھی فریق کی جانب سے انحراف ممکن نہ ہو۔ ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف ایران کی سفارتی حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران مذاکرات میں کمزور پوزیشن پر نہیں بلکہ مضبوط شرائط کے ساتھ داخل ہو رہا ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کا عندیہ بھی دیتی ہے کہ آنے والے دنوں میں مذاکرات انتہائی سخت اور پیچیدہ ہوں گے، کیونکہ ایران کے مطالبات نہ صرف امریکہ بلکہ اس کے اتحادیوں کے لیے بھی بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔