ہندوستانی ریلوے نے ٹکٹ کینسل کرنے کے اصولوں میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے انہیں مزید سخت بنا دیا ہے، جس کے تحت اب مسافروں کو ریفنڈ حاصل کرنے کے لیے ٹرین کی روانگی سے کم از کم 8 گھنٹے پہلے ٹکٹ منسوخ کرنا ہوگا۔ اس سے پہلے یہ حد 4 گھنٹے تھی، تاہم نئے قوانین کے بعد آخری وقت تک ٹکٹ رکھنے والے مسافروں کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ریلوے کی جانب سے جاری کردہ نئی ہدایات کے مطابق چارٹ تیار کرنے کے وقت کو بھی بڑھا کر 8 گھنٹے پہلے کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد خالی سیٹوں کا بہتر استعمال اور ویٹنگ لسٹ والے مسافروں کو کنفرم ٹکٹ فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔ وزیر ریلوے اشونی ویشنو کے مطابق یہ اقدامات شفافیت بڑھانے اور سفری نظام کو مؤثر بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔
نئے قواعد کے تحت اگر کوئی مسافر ٹرین کی روانگی سے 72 گھنٹے پہلے ٹکٹ کینسل کرتا ہے تو اسے تقریباً پوری رقم واپس ملے گی، صرف معمولی منسوخی فیس کاٹی جائے گی۔ 72 سے 24 گھنٹے کے درمیان ٹکٹ کینسل کرنے پر 25 فیصد رقم کٹوتی کی جائے گی، جبکہ 24 سے 8 گھنٹے کے درمیان کینسلیشن کی صورت میں 50 فیصد رقم واپس کی جائے گی۔ اس کے برعکس اگر مسافر 8 گھنٹے سے کم وقت پہلے ٹکٹ کینسل کرتا ہے تو اسے کوئی ریفنڈ نہیں ملے گا۔
ریلوے نے کچھ سہولیات بھی متعارف کرائی ہیں تاکہ مسافروں کو آسانی ہو۔ اب کاؤنٹر سے خریدا گیا ٹکٹ ملک کے کسی بھی ریلوے اسٹیشن سے منسوخ کیا جا سکتا ہے، جبکہ ای ٹکٹ کی صورت میں کینسلیشن کے فوراً بعد رقم خود بخود واپس ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ اگر ٹرین منسوخ ہو جائے یا 3 گھنٹے سے زیادہ تاخیر کا شکار ہو تو مسافروں کو مکمل رقم واپس دی جائے گی۔ اسی طرح اگر چارٹ تیار ہونے کے بعد بھی ویٹنگ لسٹ ٹکٹ کنفرم نہ ہو تو وہ خودکار طریقے سے منسوخ ہو جائے گا اور پوری رقم واپس ملے گی۔
پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ تبدیلیاں یکم سے 15 اپریل کے درمیان مرحلہ وار نافذ کی جائیں گی، جن کا مقصد ریلوے کے نظام کو زیادہ مؤثر اور منظم بنانا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس سے مسافروں کو اپنے سفر کی منصوبہ بندی پہلے سے زیادہ محتاط انداز میں کرنی ہوگی۔
ان نئے قوانین کے اثرات براہ راست عام مسافروں پر پڑیں گے، خاص طور پر ان افراد پر جو آخری وقت میں سفر کا فیصلہ بدلنے کے عادی ہیں۔ اب انہیں نہ صرف جلد فیصلہ کرنا ہوگا بلکہ مالی نقصان سے بچنے کے لیے وقت کی پابندی بھی ضروری ہوگی۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ریلوے نے سہولت اور نظم کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے، مگر اس کا عملی اثر مسافروں کے رویوں میں بڑی تبدیلی کی صورت میں سامنے آئے گا۔
