نئی دہلی میں اپوزیشن اتحاد کا اہم اجلاس: ‘انڈیا بلاک’ کا وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے فوری استعفے کا متفقہ مطالبہ

ملک کی سیاسی صورتحال، تعلیمی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور معاشی بحران کے اہم امور پر مشاورت کے لیے نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں اپوزیشن اتحاد ‘انڈیا بلاک’ کا ایک انتہائی اہم اور اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا ہے۔ پیر کے روز ہونے والے اس اجلاس میں اتحاد میں شامل مختلف جماعتوں کے درمیان حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے بعض اختلافات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے مودی حکومت کو محاذِ آرائی پر گھیرنے کے لیے یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے قائدین کے متفقہ فیصلوں کا اعلان کیا، جس میں سب سے اہم مطالبہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا فوری استعفیٰ ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے ملک میں امتحانات کے نظام، خاص طور پر نیٹ (NEET)، سی بی ایس ای اور دیگر قومی سطح کے امتحانات میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں، پیپر لیک اور مارکنگ سسٹم کی خرابیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ قائدین کا کہنا تھا کہ موجودہ وزیر تعلیم کے دور میں ملک کے کروڑوں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ چکا ہے اور تعلیمی نظام کی اس تباہی کی براہِ راست ذمہ داری وزارتِ تعلیم پر عائد ہوتی ہے، اس لیے دھرمیندر پردھان کو اپنے عہدے پر برقرار رہنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، حالیہ دنوں میں نوجوانوں اور طلبہ کی تنظیموں کی جانب سے جنتر منتر پر کیے جانے والے احتجاجی مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے اپوزیشن نے واضح کیا کہ وہ طلبہ کے حقوق اور انصاف کی اس آواز کو پارلیمنٹ سے سڑکوں تک پوری طاقت کے ساتھ اٹھائیں گے۔

اجلاس میں جمہوری اقدار کے تحفظ اور عوام کے بنیادی مسائل بالخصوص روزگار اور گرانی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بتایا کہ تمام جماعتوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ ملک میں انتخابی فہرستوں کی تیاری، ووٹوں کی مبینہ چوری اور انتخابی عمل میں ہونے والی گڑبڑیوں (اسپیشل انٹینسیو ریویژن) کے خلاف بھارت کے چیف جسٹس کو ایک مشترکہ مکتوب بھیجا جائے گا تاکہ آئینی اداروں کی خود مختاری اور عوام کے حقِ رائے دہی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی، اپوزیشن اتحاد نے ملک کی دگرگوں معاشی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ معیشت کے نازک حالات پر بحث کے لیے فوری طور پر ایک کل جماعتی اجلاس طلب کرے۔

اس اہم مشاورتی بیٹھک میں کانگریس کی سینئر رہنما سونیا گاندھی، راہل گاندھی، ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی، سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو، آر جے ڈی کے رہنما تیجشوی یادو، نیشنل کانفرنس کے عمر عبداللہ اور پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی سمیت بائیں بازو کی جماعتوں کے قائدین ڈی راجہ اور جان برٹاس نے شرکت کی۔ این سی پی (ایس پی) کی رہنما سپریہ سولے اور دیگر چھوٹی علاقائی جماعتوں کے نمائندے بھی اس مشاورت کا حصہ بنے، جبکہ شیو سینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ تمل ناڈو اور مغربی بنگال کے حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی نئی سیاسی مساوات اور بعض اتحادیوں کی عدم موجودگی کے باوجود، حاضر قائدین نے 2029 کے عام انتخابات اور آئندہ ریاستی انتخابات کے پیشِ نظر اتحاد کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔

مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے انڈیا بلاک نے تنظیمی ڈھانچے کو مزید فعال بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب اپوزیشن اتحاد کے قائدین ہر دو ماہ بعد باقاعدگی سے رسمی اجلاس منعقد کریں گے تاکہ قومی اور علاقائی مسائل پر مشترکہ حکمت عملی وضع کی جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی پارلیمانی کوآرڈینیشن کو مزید مضبوط کرنے کے لیے پارلیمنٹ کے سیشن کے دوران روزانہ کی بنیاد پر باہم رابطے اور مشاورتی ملاقاتیں جاری رکھنے کا عزم دہرایا گیا ہے، تاکہ ایوان کے اندر حکومت کو مشترکہ محاذ کے ذریعے زبردست چیلنج دیا جا سکے۔

شیئر کریں۔