قرار دے دلِ بے چین آشیانہ کو

از؛ محمد ياسين نائطی ندوی

کبھی کبھی زندگی کے سفر میں ایسے مسافر ملتے ہیں جو کم وقت میں بھی دلوں پر گہرا نقش چھوڑ جاتے ہیں۔ ایک با ادب و با اخلاق نوجوان شاگرد کی جدائی بھی ایسا ہی لمحہ ہے، جیسے کسی روشن صبح کی روشنی اچانک دھندلا جائے اور فضا میں خاموشی اتر آئے۔ عزيز افہام بن سمير شاه بندري كا شمار شعبہ ثانويہ جامعہ اسلاميہ بهٹكل ميں دوران تعليم ميرے انتہائی قريبي شاگردوں میں تها،اساتذہ کا احترام کرنا، ساتھیوں کے ساتھ محبت سے پیش آنا اور ہر ايک كے ساتھ خنده پيشاني سے ملنا، چهٹيوں کو بے مقصد سرگرمیوں میں ضائع کرنے کے بجائے دعوت و تبليغ ميں گزار كر اللہ کی رضا حاصل كرنا اس كى عادت تهي، اس کی گفتگو میں نرمی، کردار میں سادگی اور دل میں نوجوانوں کی فکر رہتی۔وہ گویا ایک ایسا چراغ تھا جو خاموشی سے جلتا رہا اور اپنے اردگرد روشنی بانٹتا رہا۔ اس کی گفتگو میں احترام کی مٹھاس اور اس کے کردار میں عاجزی کی خوشبو تھی۔ والدين و اقرباء کے لیے وہ امید کی ایک کرن تھا۔ اس کی مختصر زندگی ہمیں یہ سکھا گئی کہ انسان کی اصل پہچان اس کے اخلاق اور نیت میں ہوتی ہے، نہ کہ عمر کی طوالت میں۔آج اس کی جدائی کا غم دلوں کو بوجھل کر رہا ہے، مگر اس کی یاد تا دير باقی رہے گی۔ جیسے باغ سے ایک خوبصورت پھول چن لیا جائے مگر اس کی مہک دیر تک فضا میں بسی رہتی ہے، ویسے ہی اس شاگرد کے اخلاق اور اس کی مسکراہٹ کی یاد دلوں میں زندہ رہے گی۔ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمتِ کاملہ میں جگہ عطا فرمائے، اس کی نیکیوں کو قبول فرمائے اور اسے جنت کے اعلیٰ درجات نصیب کرے۔ اللہ تعالیٰ اس کے والدین اور جملہ پسماندگان کے دلوں کو صبر اور سکون سے بھر دے اور اس آزمائش کو ان کے لیے رحمت اور اجر کا سبب بنا دے۔