بنگلورو (پی ٹی آئی) کرناٹک کے انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کے وزیر ایم بی پاٹل نے بدھ کے روز مرکز کی طرف سے مدورائی ہوائی اڈے کو بین الاقوامی ہوائی اڈے کے طور پر اعلان کرنے پر ناراضگی کا اظہار کیا جبکہ کرناٹک کے ہبلی اور بیلگاوی ہوائی اڈوں کو اسی طرح کا درجہ نہ دینے پر اس اقدام کو "امتیازی اور ناقابل قبول” قرار دیا۔
وزیر نے کہا کہ مرکزی حکومت نے یہ فیصلہ تمل ناڈو کے آئندہ انتخابات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیا ہے۔ تاہم کرناٹک کے مطالبے کے تئیں اس کا لاتعلق رویہ قابل اعتراض ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے تمل ناڈو کے مدورائی ہوائی اڈے کو بین الاقوامی ہوائی اڈہ قرار دیا ہے لیکن کرناٹک کے ہبلی اور بیلگاوی ہوائی اڈوں کے بارے میں ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ یہ ایک امتیازی رویہ کی عکاسی کرتا ہے اور قابل قبول نہیں ہے۔ یہ ان کے لیے مکھن اور ہمارے لیے چونا کیسے ہو سکتا ہے؟
کابینہ نے منگل کو مدورائی ہوائی اڈے کو بین الاقوامی ہوائی اڈہ قرار دینے کی تجویز کو منظوری دی۔ مدورائی تمل ناڈو کا ایک ممتاز شہر ہے، اور مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ یہ فیصلہ اس شہر کے لوگوں کی امنگوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
پاٹل نے یاد دلایا کہ 24 جون 2025 کو مرکزی شہری ہوابازی کے وزیر رام موہن نائیڈو کو ایک خط لکھا گیا تھا، جس میں درخواست کی گئی تھی کہ ہبلی اور بیلگاوی ہوائی اڈوں کو بین الاقوامی درجہ میں اپ گریڈ کیا جائے، کیونکہ اس سے شمالی کرناٹک کے علاقے کو بہت فائدہ ہوگا۔
انہوں نے زور دیا کہ اس تناظر میں مرکزی وزیر اور دھارواڑ کے ایم پی پرہلاد جوشی، بیلگاوی کے ایم پی جگدیش شیٹر، اور ہاویری کے ایم پی بسواراج بومائی کو اپنی آواز اٹھانی چاہئے اور ریاست کے مفادات کے لئے مضبوطی سے کھڑے ہونا چاہئے۔
وزیر نے زور دیا کہ کم از کم دو ہوائی اڈوں میں سے ایک – ہبلی یا بیلگاوی – کو بین الاقوامی ہوائی اڈہ قرار دیا جانا چاہئے۔ پاٹل نے مزید کہا کہ اگر دونوں کو اپ گریڈ کیا جاتا ہے تو یہ اور بھی خوش آئند ہوگا۔ مرکزی حکومت کو ریاست کی ضرورت کو تسلیم کرنا چاہیے۔
