ہمارے مشفق استاد محترم سیف اللہ ماسٹر – سپردِ خاک

تحریر: انعام الحق رفیع ملپا ندوی

سن ؁۲۰۰۸ ء کی بات ہے راقم شعبہ حفظ جامعہ اسلامیہ جامعہ آباد بھٹکل میں زیرِ تعلیم تھا، ایک دفعہ تین حضرات کا شعبہ حفظ میں ورود مسعود ہوا، ان میں (۱) *مولانا عبدالباری فکردے* ندویؒ(سابق مہتمم جامعہ اسلامیہ بھٹکل) (۲) *جناب عبدالقادر دامداابو ؒ* (خادم جامعہ اسلامیہ بھٹکل) اور (۳) *سیف اللہ ماسٹر* (استاد جامعہ اسلامیہ بھٹکل) تھے، مہتمم صاحب ہماری شرارتوں سے پہلے ہی سے واقف تھے مجھے دیکھتے ہی *عبدالقادر صاحب* کی لاٹھی سے مجھے ازراہِ مزاح مارنے آئے اور کہہ رہے تھے یہ بہت شرارت کرتا ہے۔ تب *ماسٹر سیف اللہ صاحب* ہنس رہے تھے، ان سے اس سے پہلے کبھی نہ ملاقات ہوئی نہ ہی گفتگو۔ نہ ہی وہ مجھ سے واقف تھے۔ شاید کم ہی دیکھنے کا اتفاق ہوا ہوگا، دو تین دن ہی گزرے تھے کہ جامعہ ہی کے راستہ پر ملے *’’ ارے تم تو وہی ہو نا کل مہتمم صاحب نے شرارت کرنے پر مارا تھا ‘‘* چند سالوں بعد عالمیت میں داخلہ ہوا پہلے سال ہی الحمدللہ *سیف اللہ ماسٹر* سے *کنڑا* پڑھنے کا موقع میسر آیا۔ ابتدائی دنوں میں دفتر اہتمام سے چار کمرے کی طرف آہی رہے تھے اتفاق سے مولانا وصی اللہ ڈی ایف بھی وہیں تھے ، ہم نے انہی کے انداز سے کہا ’’ارے وصی اللہ ، کہاں ہو تم؟ ‘‘ مولانا وصی اللہ صاحب نے ماسٹر صاحب سے کہہ ہی دیا کہ سر آپ کی نقل اتار رہا ہے۔ پھر کیا تھا ہنستے مسکراتے پیٹھ پر ایک مکّا پڑا۔ *وہ مکّا بھی محبت کی ایک علامت تھی۔* وہ طلبہ سے ہمدردانہ و مشفقانہ معاملہ کرتے تھے، وہ ناصحانہ انداز میں خیر و خیرات کے کام کرنے پر اُبھارتے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے میں چند منٹ مدرسہ تاخیر سے پہنچا، *مہتمم جامعہ مولانا عبدالباری ؒ* نے مجھے دیکھا اور بلایا ، مولانا مجھ سے وجہ پوچھ کر جان ہی رہے تھے کہ دفتر اہتمام کے باہر بیٹھے *ماسٹر سیف اللہ صاحب* کی آواز آئی *’’ مولانا جانے دیجیے یہ اچھا لڑکا ہے ، آئندہ نہیں کرے گا‘‘* مولانا نے کہا دیکھو ماسٹر صاحب کہہ رہے ہیں چھوڑ رہا ہوں۔ وہ طلبہ سے محبت کرتے تھے طلبہ بھی ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ ان کا تدریسی انداز بھی مختلف تھا۔ وہ جب بھی واقعہ کسی شخصیت کے نام کے ساتھ ذکر کرتے تو دوبارہ وہ بات سوالیہ انداز میں دہراتے ارے کون تھا وہ؟ طلبہ ازراہ تفریح کہتے *’’ سر ، وہ ، وہ، وہ‘‘!* ارے وہ نہیں ان کا نام لیتے۔ ان کی ڈانٹ ڈپٹ بھی کیا عجیب تھی کہ طلبہ شور کر رہے ہیں تو کہتے *’’ ارے ….. ‘‘* یا *’’ مخصوص الفاظ سے ‘‘* پکارتے، خاموش ہوجاؤ۔ ان کی سزا بھی کیا سزا تھی کہ ایسا پیٹھ تھپتپاتے تھے کہ دوسرے طلبہ بھی آکراپنی پیٹھ حاضر کرکے کہتے کہ *’’ سر مجھے بھی مارو‘‘* پھر کیا تھا پیٹھ تھپتھپاتے کہ سکون مل جائے۔ ماسٹر صاحب ؒ کو اپنے شاگردوں پر ناز تھا کہ شاید ایک سے زائد بار اس کا تذکرہ درجہ میں فخریہ انداز میں کہا کہ *’’بہت طلبہ ہم سے پڑھ کر ہی گئے ہیں اور بڑے ہوگئے ، یہ فیصل ، یہ اقبال، الیاس مولانا، عبدالحمید اطہر ، عبداللہ سکری، سب یہیں سے پڑھ کر گئے، انہوں نے کئی کتابیں لکھیں ‘‘* اسی طرح کئی ہونہار فارغینِ جامعہ کا نام لیا۔ وہ ایک بے ضرر معلم تھے، کبھی شاید کسی طالب علم کو ایسا محسوس نہ ہوا ہوگاکہ ماسٹر صاحب ؒ کی کسی گفتگو سے دل کو چوٹ لگ گئی ہو۔ *’’ابتدا‘‘ سے ’’عالیہ رابعہ‘‘* تک کنڑا، انگریزی، جنرل نالج ہمیں پڑھایا، اسلامی سلطنتوں ، موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔ ہمیشہ نیک وصالح بن کر ، محنت وکوشش کے ساتھ زندگی گزارنے کا درس دیا۔ وہ خود بھی ہنس مکھ، ملنسار، خوش مزاج طبیعت کے مالک ، اخلاقِ حسنہ کے داعی تھے۔ ان کی خدمات کا کیا تذکرہ کیا جائے کہ ماسٹر صاحبؒ نے تین دہائیوں سے زائد عرصہ اس *’’ گہوارۂ علم و عمل، کرناٹک کے عظیم الشان اسلامی علوم کا مرکز جامعہ اسلامیہ بھٹکل‘‘* میں ہزاروں *مہمانانِ رسول ﷺ* کی تدیس کےلیے اپنے کو وقف کیا۔ ماسٹر صاحبؒ نے ریٹائرڈ ہونے کے بعد بھی اس ادارے سے بے وفائی نہیں کی، ہر سال مختلف اوقات میں حاضری دیتے رہتے۔ فضیلت سے فراغت کے بعد گھر پر جانے کا کم ہی اتفاق ہوا، ادھر کئی دنوں سے ارادہ تھا کہ ملاقات کروں گا کہ اجل نے دربارِ خدا میں انھیں حاضر ہونے کا حکم دیا۔ بالآخر ہزاروں شاگردان اپنے مشفق و محب استاد سے ، عزیز و اقارب اپنے ناصح و خیر خواہ سے محروم ہوگئے۔ شاگردان و اعزا کی موجودگی میں *’’سپردِ خاک‘‘* ہوئے۔ اللہ جل جلالہ سے دعا ہے کہ ماسٹر صاحب ؒ کی مغفرت فرمائے، ان پر اپنا خاص فضل فرمائے اور ان کی قبر کو ٹھنڈا رکھے۔