تحریر : عتیق الرحمن ڈانگی ندوی
رفیق فکروخبر
نصف شب واٹس ایپ پر خبر دیکھتے ہی میرے اوسان خطا ہوگئے۔ دل زور سے دھڑک اٹھا، سانسیں جیسے تھم سی گئیں۔ اسکرین پر انگلیاں لرزتی رہیں اور جیسے جیسے میں اسکرول کرتا گیا، خبر کسی اندوہناک سانحے کی لگ رہی تھی ۔ تصاویر کے بعد جلی حروف میں لکھا تھا: ’’بھٹکل میں سڑک حادثہ، دو نوجوان جاں بحق‘‘۔ بس، اس کے بعد نیند آنکھوں سے کوسوں دور چلی گئی۔
میں بار بار وہی تصاویر دیکھتا رہا، جن سے حادثے کی ہولناکی کا اندازہ ہوتا تھا۔ شہر کے تقریباً ہر واٹس ایپ گروپ میں یہی تصاویر گردش کر رہی تھیں، اور ان کے ساتھ ’’انا للہ و انا الیہ راجعون‘‘ کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری تھا۔ ہر پیغام دل پر چوٹ لگا رہا تھا، گویا غم کی ایک لہر پورے شہر میں دوڑ گئی ہو۔
فجر کی نماز کے لیے مسجد میں داخل ہوا تو ایک شخص نے اسی جانکاہ حادثے کی تفصیل سنائی۔ نماز کے بعد بھی نمازیوں کی گفتگو کا محور یہی واقعہ تھا۔ حادثہ کے بعد رات کا وقت ہونے کے باوجود اسپتال کے باہر لوگوں کا جمِ غفیر موجود تھا۔ ہر آنکھ اشک بار تھی اور ہر دل منظر دیکھ کر پسیج چکا تھا۔ جب عام لوگوں کی یہ کیفیت تھی تو ان نوجوانوں کے والدین اور اہلِ خانہ پر کیا گزر رہی ہوگی، اس کا تصور بھی روح کو لرزا دیتا ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والوں میں ایک پندرہ سالہ لڑکا تھا اور دوسرا بیس سالہ نوجوان۔ دونوں گھر لوٹ رہے تھے کہ ان کی کار تیز رفتاری کے باعث بجلی کے کھمبے سے جا ٹکرائی۔ صبح وائرل ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹکر کے بعد کار دو مرتبہ الٹ گئی اور چند ہی لمحوں میں دونوں اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ابھی تو ان کی عمریں کھیلنے، سیکھنے اور آگے بڑھنے کی تھیں—پندرہ اور بیس! دونوں تعلیمی میدان میں پیش قدمی کر رہے تھے، خواب سجا رہے تھے، اور مستقبل کے لیے منصوبے بنا رہے تھے۔ ان کے گھر والوں نے بھی ان سے بے شمار امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں، مگر ایک لمحے نے سب کچھ چکنا چور کر دیا اور پورا شہر سوگوار ہوگیا۔
سڑک حادثات کی خبریں ہم آئے دن سنتے اور پڑھتے ہیں۔ کچھ لمحوں کے لیے افسوس ہوتا ہے، دل دکھتا ہے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ ہم نہ صرف حادثے کو بلکہ اس سے ملنے والے سبق کو بھی فراموش کر دیتے ہیں۔ بلاشبہ موت ایک اٹل حقیقت ہے، جس سے کسی کو مفر نہیں۔ جہاں لکھی ہے، وہیں آ کر رہتی ہے، مگر یہ بھی سچ ہے کہ بعض اوقات ہماری لاپروائی اور عدمِ احتیاط موت کو دعوت دینے پر مجبور کر دیتی ہے۔
جب سے شاہراہ کی توسیع کا کام شروع ہوا ہے، سڑک حادثات میں اضافہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ اس کی وجوہات جو بھی ہوں، ہم اپنی ذمہ داری سے دست بردار نہیں ہو سکتے۔ بڑھتی ٹریفک اور خراب حالات سواروں کے لیے مشکلات ضرور پیدا کرتے ہیں، لیکن اکثر اوقات ہماری اپنی غلطیاں ہی ہمیں خطرے کے دہانے تک پہنچا دیتی ہیں۔
یاد رکھیے، کار ہو یا بائیک، وہ محض بے جان مشینیں ہیں، مگر انہیں چلانے والا ہاتھ اگر بے قابو ہو جائے تو یہی مشینیں موت کا پیغام بن جاتی ہیں۔ چند لمحوں کی غفلت، لمحاتی جوش، تیز رفتاری اور بے توجہی پل بھر میں برسوں کے خواب، امیدیں اور مسکراہٹیں راکھ میں بدل دیتی ہیں۔ اس دردناک حادثے کو محض ایک خبر سمجھ کر فراموش نہ کیجیے، بلکہ اسے آئینہ بنائیے جس میں ہم اپنی کوتاہیوں کو دیکھ سکیں۔ شاید یہی بیدار شعور، یہی احساسِ ذمہ داری، آنے والے دنوں میں ایسے دل دہلا دینے والے سانحات کو کم کرنے کا سبب بن سکے۔
