غزہ شہر کے علاقے الصبرہ میں منگل کے روز ایک دلخراش اور رقت آمیز منظر دیکھنے میں آیا جہاں ہزاروں فلسطینی شہریوں نے ابو شریعہ الحسینہ خاندان کے 112 افراد کی اجتماعی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ یہ تمام افراد غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی فضائی بمباری کے نتیجے میں تباہ ہونے والی رہائشی عمارتوں کے ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گئے تھے۔ شہدا کی میتوں کو ملبے سے نکال کر فلسطینی پرچموں میں لپیٹا گیا اور محلہ الصبرہ کے تباہ شدہ مکانات کے درمیان صفیں بچھا کر نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس کے بعد جنازے کے جلوس کو وسطی غزہ کے شیخ شعبان قبرستان کی جانب روانہ کیا گیا۔ اجتماعی جنازے میں بچوں کی جانب سے اپنے پیاروں کے کفن پر پھول نچھاور کرنے کے مناظر نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا۔
خاندان کے نمائندوں اور بزرگوں نے اس بربریت کی تفصیلات بتاتے ہوئے اسے معاصر فلسطینی تاریخ کا سب سے بڑا اور المناک ترین جنازہ قرار دیا ہے۔ خاندانی ذرائع کے مطابق 112 شہدا میں 44 بچے، 37 خواتین، 23 معمر شہری اور 7 معذور افراد شامل تھے۔ اس سے قبل 22 نومبر 2023 کو الصبرہ کے ایک رہائشی بلاک پر کیے گئے حملہ میں، جہاں تقریباً 300 افراد نے پناہ لے رکھی تھی، درجنوں افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے تھے۔ جن میں سے 70 لاشیں اس وقت دفنائی گئی تھیں جبکہ دیگر افراد کی لاشیں مہینوں تک ملبے تلے دبی رہیں اور حال ہی میں انہیں نکالا جا سکا ہے۔
اسرائیلی کارروائیوں کے آغاز سے لے کر اب تک اس اکیلے خاندان کے 308 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ حملوں کا سلسلہ صرف عام رہائشیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ مئی 2024 اور اگست 2025 کے دوران بھی نقل مکانی کی کوشش کرنے والے اور عمارتوں میں موجود خاندان کے افراد کو مسلسل نشانہ بنایا گیا۔ جاں بحق ہونے والوں میں نامور تاجر، معمار اور کاروباری شخصیات بھی شامل ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بغیر کسی تفریق کے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے عام شہریوں کو تباہی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
غزہ میں انسانی بحران اور نسل کشی کی صورتحال انتہائی تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ طبی ذرائع کے مطابق جاری جنگ اور بمباری کے دوران 2 ہزار 276 سے زائد فلسطینی خاندان ایسے ہیں جو مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور ان کا کوئی بھی فرد زندہ نہیں بچا۔ اس کے علاوہ ہزاروں دیگر خاندان ایسے ہیں جن میں اب صرف ایک ایک فرد ہی حیات ہے۔ مجموعی طور پر اکتوبر 2023 سے جاری اس جارحیت میں 73 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق جبکہ دسیوں ہزار افراد لاپتا اور شدید زخمی ہیں۔
عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی پر عالمی سطح پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بین الاقوامی انسانی قوانین اور جنیوا کنونشن کے تحت جنگی علاقوں میں عام شہریوں، بچوں اور خواتین کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے، لیکن غزہ میں رہائشی بلاکس اور پناہ گزینوں پر مسلسل بمباری ان قوانین کی سنگین خلاف ورزی کو ظاہر کرتی ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کا مطالبہ ہے کہ فوراً جنگ بندی کرائی جائے اور ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے سامان اور امداد فراہم کی جائے۔
غزہ کے عوام جہاں ایک طرف اپنوں کے جنازے اٹھا رہے ہیں، وہیں دوسری طرف بھوک، ادویات کی شدید قلیل دستیابی اور مسلسل خوف کے سائے میں جینے پر مجبور ہیں۔ ابو شریعہ خاندان کے ابھی بھی 41 افراد لاپتا ہیں جن کی باقیات ملبے تلے ہونے کا خدشہ ہے۔ غزہ کی صورتحال دنیا کے تمام باضمیر انسانوں اور عالمی اداروں سے فوری مداخلت اور انصاف کا تقاضا کر رہی ہے۔




