بنگلورو 4 جنوری (فکروخبر نیوز) ہبلی میں چھ ماہ کی حاملہ خاتون کے غیرت کے نام پر قتل کے دل دہلا دینے والے واقعے نے پوری کرناٹک ریاست کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس سنگین پس منظر میں وزیر اعلیٰ سدارامیا نے ریاست میں غیرت کے نام پر قتل جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک خصوصی قانون نافذ کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے آج سوشل میڈیا کے ذریعہ اس فیصلے سے عوام کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ غیرت کے نام پر قتل ایک گھناؤنا اور شرمناک جرم ہے جو پورے انسانی سماج کو رسوا کرتا ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ان کی حکومت ایسے جرائم کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کرے گی۔
سی ایم سدارامیا نے کہا کہ حکومت ایک ایسا جامع قانون متعارف کرانے جا رہی ہے جس کا مقصد نہ صرف مستقبل میں غیرت کے نام پر قتل جیسے واقعات کو روکنا ہے بلکہ عوام میں قانونی شعور اور بیداری پیدا کرنا بھی ہے۔
انہوں نے ہبلی تعلقہ کے انعام ویرا پور گاؤں میں مانیا کے قتل کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح اس کیس کی فوری سماعت اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی ہے۔ اسی مقصد کے تحت حکومت فاسٹ ٹریک عدالت کے قیام کے لیے ضروری اقدامات کر رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے مزید بتایا کہ ہبلی واقعے کے سلسلے میں درج مقدمہ دلتوں پر مظالم اور قتل کے زمرے میں آتا ہے، جس کے تحت 60 دن کے اندر چارج شیٹ داخل کرنا لازمی ہے۔ اس لیے حکومت نے کیس کی مؤثر پیروی کو یقینی بنانے کے لیے پرائیویٹ پراسیکیوٹر کی تقرری کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
سی ایم سدارامیا نے کہا کہ آئندہ قانون ساز کونسل اجلاس میں جبری شادی، لڑکی کی مرضی کے خلاف شادی سے انکار، ذات پات کی بنیاد پر تشدد و حملے اور غیرت کے نام پر قتل جیسے جرائم کی روک تھام کے لیے خصوصی قانون سازی پر تفصیلی بحث کی جائے گی اور اس پر مناسب فیصلہ لیا جائے گا۔
