ہندوستان میں کمرشیل ایل پی جی گیس کی فراہمی میں پیش آنے والی مشکلات کے باعث فوڈ بزنس اور آن لائن فوڈ ڈیلیوری سروسز شدید متاثر ہو رہی ہیں، جس کا براہ راست اثر ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں گِگ ورکرس کی روزی روٹی پر پڑ رہا ہے۔ گیس کی کمی کے سبب کئی ریسٹورنٹ، ڈھابے، کلاؤڈ کچن اور اسٹریٹ فوڈ فروش یا تو بند ہو رہے ہیں یا محدود پیمانے پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔
گِگ اینڈ پلیٹ فارم سروس ورکرس یونین (جی آئی پی ایس ڈبلیو یو) نے پونے سے جاری ایک پریس ریلیز میں خبردار کیا ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں آن لائن فوڈ آرڈرز میں 50 سے 60 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یونین کے مطابق گیس کی کمی کے باعث کھانے پینے کے کاروبار متاثر ہونے سے فوڈ ڈیلیوری پلیٹ فارمز پر آرڈرز نمایاں طور پر کم ہو گئے ہیں۔
یونین کے نیشنل کوآرڈینیٹر نرمل گورانا نے کہا کہ اس صورتحال نے ڈیلیوری ورکرس کو سنگین معاشی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ ان کے بقول سینکڑوں ورکرس یونین سے رابطہ کر رہے ہیں اور کئی خاندان فاقہ کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دہلی کے ایک ڈیلیوری ورکر، جو دو بچوں کے والد ہیں، نے بتایا کہ پہلے وہ روزانہ تقریباً 30 ڈیلیوری کرتے تھے، لیکن اب یہ تعداد 5 سے 10 تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
یونین کے مطابق آن لائن فوڈ ڈیلیوری پلیٹ فارمز جیسے زومیٹو اور سویگی پر بھی اس صورتحال کا اثر واضح نظر آ رہا ہے۔ آرڈرز میں کمی کے باعث کئی ورکرس کو اپنی آئی ڈی غیر فعال کیے جانے کی دھمکیاں بھی مل رہی ہیں، جس سے ان کی پریشانی مزید بڑھ گئی ہے۔
یونین کا اندازہ ہے کہ اس بحران سے تقریباً ایک کروڑ گِگ اور پلیٹ فارم ورکرس متاثر ہو رہے ہیں۔ چونکہ یہ ورکرس کسی مستقل تنخواہ یا سماجی تحفظ کے بغیر کام کرتے ہیں، اس لیے اس طرح کی بیرونی مشکلات براہ راست ان کی آمدنی اور روزگار پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر یونین نے وزارت محنت و روزگار کو خط لکھ کر فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ یونین نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کمرشیل ایل پی جی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنائے تاکہ فوڈ بزنس معمول کے مطابق چل سکیں۔ اس کے علاوہ فوڈ ڈیلیوری پلیٹ فارمز سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ متاثرہ ورکرس کو کم از کم 10 ہزار روپے کی فوری مالی امداد فراہم کی جائے۔
یونین نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ تین ماہ تک ڈیلیوری ورکرس کی آئی ڈی ڈی ایکٹیویٹ کرنے کے عمل پر پابندی لگائی جائے اور انہیں کم از کم یومیہ انسینٹیو دیا جائے۔ ساتھ ہی حکومت سے اپیل کی گئی ہے کہ کوڈ آن سوشل سیکورٹی 2020 کے تحت تمام گِگ ورکرس کو مکمل سماجی تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ ایسے بحران کے وقت ان کی معاشی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
