مفتی فیاض احمد محمود برمارے
نیپال میں چند ہفتے پہلے ہندو اور مسلم برادریوں کے درمیان فرقہ وارانہ کشیدگی نے پورے معاشرے کو پریشان کر دیا تھا۔ معمولی نوعیت کا ایک مذہبی تنازع دیکھتے ہی دیکھتے تشدد میں تبدیل ہوا، لوگ خوف زدہ ہوئے، بازار بند ہوئے، کرفیو لگا اور قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ کم از کم تین افراد جان سے گئے اور درجنوں زخمی ہوئے۔ لیکن آج قدرتی آفت نے سب انسانوں کو ایک ایسا سبق دیا ہے جسے ہمیں بہت گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
26 اگست کو نیپال کے پہاڑی علاقوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے بستیوں، گھروں، سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔ سینکڑوں لوگ جان سے گئے اور بڑی تعداد میں لوگ لاپتا ہوئے۔ ہزاروں خاندان امداد کے منتظر ہیں، جبکہ ہزاروں بچوں کو فوری انسانی مدد درکار ہے۔ ایسے وقت میں ذرا تصور کیجیے کہ کسی انسان سے یہ پوچھنے کی فرصت ہے کہ وہ ہندو ہے یا مسلمان؟ کسی ڈوبتے ہوئے شخص کو بچانے سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کا مذہب کیا ہے؟ کسی زخمی بچے کو مدد دیتے وقت اس سے اس کا عقیدہ پوچھا جاتا ہے؟ نہیں۔ ہرگز نہیں؛ مصیبت جب آتی ہے تو انسان کو صرف انسان نظر آتا ہے۔ سیلاب کا پانی یہ فرق نہیں کرتا کہ کون ہندو ہے، کون مسلمان، کون بدھ مت کا پیروکار ہے یا کون کسی اور مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ موت کسی کا مذہب نہیں پوچھتی، بھوک کسی کا عقیدہ نہیں دیکھتی، اور آفت کسی فرقے کو الگ کرکے نشانہ نہیں بناتی۔ پھر سوال یہ ہے کہ ہم انسان خود ایک دوسرے کے درمیان ایسی دیواریں کیوں کھڑی کرتے ہیں؟ مذہبی نفرت سے آخر حاصل کیا ہوتا ہے؟
یاد رکھنا چاہیے کہ اگر ایک مسلمان کمزور ہوتا ہے تو اس کا نقصان صرف مسلمانوں کا نہیں ہوتا؛ ملک کا نقصان ہوتا ہے۔ اگر ایک ہندو خوف میں زندگی گزارتا ہے تو اس کا اثر صرف ایک ہندو خاندان تک محدود نہیں رہتا؛ پورا معاشرہ کمزور ہوتا ہے۔ اگر کسی اقلیت کی دکان، گھر، عبادت گاہ یا کاروبار کو نقصان پہنچتا ہے تو دراصل ملک کی معیشت، امن اور سماجی اعتماد کو نقصان پہنچتا ہے۔ کسی ملک کی ترقی کسی ایک طبقے کی محنت سے نہیں ہوتی۔ سڑک بنانے والا، کھیت میں کام کرنے والا، دکان چلانے والا، ڈاکٹر، استاد، انجینئر، مزدور، فوجی، پولیس اہلکار، تاجر اور طالب علم، سب مل کر ملک بناتے ہیں۔ مختلف مذاہب، زبانوں، قومیتوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ جب ایک دوسرے کے ساتھ امن سے کام کرتے ہیں تو ملک آگے بڑھتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ہم ایک دوسرے کو کمزور کرنے میں اپنی توانائیاں صرف کریں گے تو ہمارے پاس ترقی کے لیے کیا بچے گا؟ دنیا کی تاریخ ہمیں بار بار بتاتی ہے کہ نفرت معاشروں کو توڑتی ہے، جبکہ تعاون انہیں مضبوط کرتا ہےآج نیپال کا سیلاب ہمارے لیے ایک دردناک مگر اہم سبق ہے: جس وقت انسان پر مصیبت آتی ہے، اسے سب سے پہلے ایک انسان کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ ایک مذہبی شناخت کی۔ اس لیے ہمیں مذہب کو نفرت کا ذریعہ نہیں بلکہ اخلاق، رحم، خدمت اور انسان دوستی کا ذریعہ بنانا چاہیے۔ ہندو اپنے مسلمان پڑوسی کے دکھ میں شریک ہو، مسلمان اپنے ہندو پڑوسی کی مدد کرے، بدھ مت کا پیروکار، عیسائی، سکھ یا کسی بھی عقیدے سے تعلق رکھنے والا شخص دوسرے انسان کے لیے کھڑا ہو۔ کیونکہ آخرکار ہم سب کی سب سے بنیادی شناخت انسان ہونے کی ہے۔ قدرتی آفات ہمیں مجبور کرکے وہ کام کرواتی ہیں جو ہمیں امن کے زمانے میں اپنی خوشی سے کرنا چاہیے، ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا۔
سیلاب کے بعد جب متاثرین کی امداد کے لیے مختلف تنظیمیں اور ادارے میدان میں آتے ہیں تو ان میں بعض مسلم تنظیمیں اور مسلم رضاکار بھی ہوتے ہیں، لیکن وہ صرف مسلمانوں کی مدد نہیں کرتے بلکہ انسانیت کے نام پر تمام متاثرین کی مدد کرتے ہیں۔ کسی مصیبت زدہ انسان کو کھانا، پانی، لباس، دوا یا رہنے کی جگہ فراہم کرتے وقت اس کا مذہب نہیں پوچھا جاتا، بلکہ اسے ایک ضرورت مند انسان سمجھ کر اس کی مدد کی جاتی ہے۔ یہی جذبہ ہمیں بہت بڑا سبق دیتا ہے کہ انسانیت کی خدمت کسی ایک مذہب یا طبقے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ جس طرح مسلمان تنظیمیں مصیبت کے وقت بلا تفریق انسانوں کی مدد کرتی ہیں، اسی طرح ہر مذہب اور ہر طبقے کے لوگوں کو چاہیے کہ وہ انسانیت کے دکھ درد میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں۔ البتہ عبادت اور عقیدے کے اعتبار سے ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے اور ہمیں ایک دوسرے کے مذہب، عبادت گاہوں اور مذہبی جذبات کا احترام کرنا چاہیے۔ اپنے مذہب سے محبت کرنا اپنی جگہ، لیکن دوسرے انسان سے نفرت کرنا کسی طور ضروری نہیں۔ اپنے اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ محبت، احترام، عدل اور خیر خواہی کے ساتھ رہنا ہی ایک پرامن اور مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے۔ کاش ہمیں سیلاب آنے کا انتظار نہ کرنا پڑے تاکہ ہمیں یاد آئے کہ سامنے والا بھی ہماری طرح ایک انسان ہے۔ کاش ہمیں کسی آفت کی ضرورت نہ ہو یہ سمجھنے کے لیے کہ مذہبی نفرت سے نہ کسی کا گھر آباد ہوتا ہے، نہ معیشت مضبوط ہوتی ہے، نہ ملک ترقی کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ملک اس وقت ترقی کرتا ہے جب اس کے تمام شہری خود کو محفوظ ، باعزت اور برابر کا حصہ دار سمجھیں، اس لیے نفرت نہیں، محبت چاہیے۔ تقسیم نہیں، اتحاد چاہیے۔ تعصب نہیں، انصاف چاہیے۔ اور مذہب کے نام پر دشمنی نہیں، انسانیت کے نام پر ایک دوسرے کی خدمت چاہیے۔ کیونکہ جب سیلاب آتا ہے تو سب کو اپنی جان کی فکر ہوتی ہے؛ اور جب انسانیت جاگتی ہے تو سب ایک دوسرے کی جان بچانے کی فکر کرتے ہیں۔ آخرکار یہی انسانیت کسی بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)




