الیکشن کمیشن کا سپریم کورٹ میں مؤقف:ووٹر لسٹ میں شمولیت یا اخراج کے لیے شہریت کی جانچ کا اختیار حاصل

Supreme Court of India کو Election Commission of India (ECI) نے بتایا ہے کہ ووٹر لسٹ میں کسی شخص کی شمولیت یا اخراج کے لیے شہریت کی جانچ کا اختیار الیکشن قوانین کے تحت موجود ہے۔ کمیشن کے مطابق آرٹیکل 326، ریپریزنٹیشن آف دی پیپل ایکٹ 1950 اور رجسٹریشن آف الیکٹرز رولز 1960 کی روشنی میں الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ERO) یہ فیصلہ کر سکتا ہے۔ ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسو ریویژن (SIR) کی آئینی حیثیت پر سماعت 15 جنوری کو جاری رہے گی۔

عدالت عظمیٰ کی بنچ ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرِثانی (SIR) کی آئینی حیثیت پر دلائل سن رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سینئر ایڈووکیٹ رکش دوییدی نے مؤقف اختیار کیا کہ قوانین ERO کو مخصوص مقاصد کے لیے شہریت کی جانچ کا اختیار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ جانچ ووٹر لسٹ کے دائرۂ اختیار تک محدود ہے۔

دوییدی نے کہا کہ جیسے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 1957 کے تحت مائننگ لائسنس کے لیے شہریت شرط ہے، اسی طرح ووٹر لسٹ میں اندراج کے لیے بھی شہریت کی جانچ ناگزیر ہے۔ بنچ کی جانب سے سوال ہوا کہ کیا شہریت ایکٹ کے تحت ERO کے فیصلے کو مرکزی حکومت کو بھیج کر ووٹنگ حق ختم کیا جا سکتا ہے؟ اس پر جواب دیا گیا کہ مرکزی حکومت کا فیصلہ ملک میں قیام یا ملک بدری جیسے معاملات سے متعلق ہوگا، جبکہ ووٹر لسٹ کا معاملہ الیکشن کمیشن کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے—اور فہرست سے نام خارج کرنا اسی حد تک کافی ہے۔

دوییدی نے واضح کیا کہ آرٹیکل 326 شہریت کے تعین کا طریقۂ کار نہیں بتاتا۔ آرٹیکل 5 آئین کے نفاذ (26 جنوری 1950) کے وقت کی شہریت سے متعلق ہے، جبکہ بعد ازاں شہریت کا ایک مسلسل قانونی عمل جاری رہا ہے۔ بنچ نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکلز 5، 6 اور 7 عبوری نوعیت کے تھے، جب لوگوں کو ملک کے انتخاب کا مرحلہ درپیش تھا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ پیدائش، رہائش اور ڈومیسائل اہم عوامل ہیں، بالخصوص پیدائش۔

SIR اس وقت 12 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں نافذ ہے۔ Bihar میں یہ عمل نومبر کے اسمبلی انتخابات سے قبل مکمل ہوا، جہاں 30 ستمبر کو شائع ہونے والی حتمی فہرست میں 47 لاکھ ووٹروں کے نام خارج کیے گئے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اہل ووٹروں کے اخراج پر خدشات ظاہر کیے ہیں، تاہم الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ تحفظات اور شفافیت کے تقاضے پورے کیے گئے ہیں اور اس اقدام کا مقصد ووٹنگ عمل کو صاف اور قابلِ اعتماد بنانا ہے۔

سماعت 15 جنوری کو جاری رہے گی۔