یوپی میں مسلم پھیری والے کو ہراساں کرنے کی ویڈیو وائرل، ملزم کی گرفتاری کا مطالبہ

اتر پردیش کے ضلع لکھیم پور کھیری کے محمدی علاقے سے ایک انتہائی افسوسناک اور تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک مسلم پھیری والے کو زبردستی مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مسلم کمیونٹی، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وائرل ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک نوجوان سڑک پر سامان بیچنے والے ایک معمر مسلم دکاندار پر دباؤ ڈال رہا ہے اور اسے ہراساں کر رہا ہے۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق، یہ واقعہ محمدی کے مقامی بازار میں پیش آیا جہاں ملزم نوجوان نے بزرگ پھیری والے کو روک کر موبائل کیمرے کے سامنے نعرے لگانے کا مطالبہ کیا۔ ویڈیو فوٹیج میں نظر آ رہا ہے کہ بزرگ دکاندار انتہائی خوفزدہ اور غیر محفوظ محسوس کر رہا ہے۔ وہ شروع میں اس مطالبے کی مخالفت کرتا ہے اور نوجوان سے کہتا ہے کہ وہ اپنا فون بند کرے تو وہ بات کرے گا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ کیمرے کے سامنے نعرہ لگانے پر راضی نہیں تھا۔ تاہم، ملزم مسلسل اصرار کرتا رہا اور شدید دباؤ کے باعث بزرگ شہری کو مجبوراً نعرہ لگانا پڑا۔

سوشل میڈیا صارفین اور مقامی لوگوں نے اس واقعے کو انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ بزرگ شہری کو صرف ان کی مذہبی شناخت کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا اور انہیں سرعام ذلیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ انٹرنیٹ پر متحرک افراد نے ملزم کی شناخت راہول راجپوت کے نام سے کی ہے اور مقامی پولیس انتظامیہ کو ٹیگ کرتے ہوئے اس کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ سماجی تنظیموں کا موقف ہے کہ کسی بھی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کرنا بنیادی حقوق کی پامالی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کی دانستہ کوشش ہے۔

عوامی سطح پر بڑھتے ہوئے احتجاج اور سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کے بعد مقامی پولیس انتظامیہ حرکت میں آ گئی ہے۔ پولیس حکام نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ویڈیو ان کے علم میں آ چکی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ محمدی کے تھانہ انچارج کو اس پورے معاملے میں فوری اور ضروری قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔ پولیس اس وقت واقعے کی حقیقت، وقت اور اس میں ملوث افراد کی شناخت کی تصدیق کے لیے تفتیش کر رہی ہے۔

اتر پردیش اور ملک کے دیگر حصوں میں اقلیتی برادری کے کمزور اور غریب طبقے کے افراد کو نشانہ بنانے کے ایسے واقعات پہلے بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال اس طرح کے حساس فرقہ وارانہ معاملات کو ہوا دینے اور خوف کا ماحول پیدا کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے، جس پر سخت قانونی گرفت کی ضرورت ہے۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تحقیقات مکمل ہونے تک امن و امان برقرار رکھیں، جبکہ مسلم تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو جلد از جلد گرفتار کر کے عبرت ناک سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کسی ضعیف اور بے بس شہری کی اس طرح تذلیل نہ کی جا سکے۔

شیئر کریں۔