عید احتساب کا دن ہے!

الله أكبر الله أكبر ، لا اله الا الله والله أكبر، الله أكبر والله الحمد – یہ آج ہے کیا صبح ہی صبح تکبیر کی صدائیں دھیمے سروں میں میٹھے بولوں میں ہر طرف سے کانوں میں چلی آرہی ہیں اور مسلمان ہیں کہ ٹولیوں کی ٹولیاں بنائے نہائے دھوئے بنے سنورے عطر لگائے بوڑھے اور جوان بچہ اور بچیاں ، امیر و غریب سب ادھر سے ادھر رواں ہیں. ہے یہ کہ آج عید ہے۔ سال کے دو بڑے اسلامی تہواروں میں سے پہلا تہوار اور مسلمان اس کا جشن منا نے نکالا ہے۔ لیکن یہ کیسا جشن اور تہوار ہے کہ دنیا جہان کے جشنوں اور میلوں سے نرالا کہ ناچ نہ مجرا، راگ نہ با جا۔ بس زبانوں پر حمد کے زمر سے اور ہونٹوں پر توحید کے نغمے ! جی ہاں اللہ کے ان بندوں کی شریعت کے مزاج ہی میں بانکپن ہی کچھ ایسا ہے:

دارد آں آفت جاں حسن و جمال عجبے

 چشم مست عجبے و آبرو و خال عجبے

ابھی کل شام تک تو رمضان ہی تھا۔ ہر گیارہ مہینہ کے بعد ایک پورا مہینہ بھوک اور پیاس کا صبر و ضبط کا اب اس میں چاہے مئی ہو یا جون ، نور کے تڑکے سے لے کر شام کے جھٹ پٹے تک ۱۵-۱۵ گھنٹے تک پیاس کو روکے رہئے۔ چاہے ہونٹوں پر پپڑیاں اور زبان میں کانٹے پڑ جائیں پانی کا ایک قطرہ بھی حلق کے اندر نہ جانے دیجیے اور پھر رات جب آجائے تو بجائے خواب غفلت کے پڑ جانے کے ، نمازیں اور زیادہ پڑھئے تو ابھی کل تک مہینہ میں عبادت وریاضت کا تھا۔ رات کو مسجدیں تراویح سے گونجتی رہتی تھیں اور آج صبح جو ہوئی تو اس ماہ مبارک کے حسن خاتمہ کی خوشی میں سڑکیں اور گلیاں تک کلمہ کی صداؤں سے گونجنے لگیں؟ عبادت تو خیر ہوتی ہی یہاں جشن مسرت بھی سراسر عبادت

جسم مستے عجبے زلف دراز عجبے

اور ان تکبیروں میں جاہ وجلال کی گرمی نہیں ، یکسر شان جمال کی نرمی ! زبانوں پر عبدیت کے زمزمے اور ہونٹوں پر عبودیت کے نغمے ، اس سج دھج سے مسلمان چلا ہے نماز پڑھنے ۔ اس حال میں کہ کچھ نہ کچھ تحفہ اپنے مال میں سے دوسروں کی نذر کر چکا ہے اور یہ دیکھ چکا ہے کہ اس کے علم میں اس کی بساط بھر اڑوس پڑوس بلکہ محلہ میں کوئی نادار آج بھوکا نہ رہنے پائے گا بستی کے باہر سب مسلمان ایک جگہ نماز پڑھیں گے۔ بڑے اور چھوٹے خادم اور مخدوم ۔ زردار اور نادار محمود و ایاز راجا اور پر جاسب صف بہ صف کھڑے ہونگے اور ایک اللہ اکبر کی آواز پر ایک ساتھ اٹھیں گے بیٹھیں گے ایک ساتھ جھکیں گے ایک ساتھ کھڑے ہوں گے۔ ایک ساتھ ہاتھ باندھیں گے ایک ساتھ سلام پھیریں گے۔

دورکعت نماز کے بعد امام کی زبان سے خطبہ سنیں گے، کچھ دعا ئیں کچھ احکام کچھ کام کی باتیں کچھ روزہ داروں کے لئے بشارتیں ۔ اس کے بعد آپس میں گلے ملیں گے اور خوش خوش گھر واپس ہوں گے  اور شیر خرما اور میٹھی سوئیاں پئیں گے۔ عزیزوں دوستوں اور گھر والوں کو پلائیں گے اور اسی میں شام ہو جائے گی۔

عید گاہ کے اندر روحانی نعمتوں کا جو خزانہ لٹتا رہتا ہے اس کو چھوڑ کر ذرا باہر آئیے۔ یہ باہر کی دل آویزیاں اندر کی دلکشی سے کم نہیں ہوتیں یہ قول شخصے کم نہیں کچھ دل کشی میں ناز سے رنگ نیاز

دکانیں ہر طرح کی لگی ہوئیں کہنا چاہئے کہ پورا بازار سجا ہوا اور کھانے پینے کی تو ہمہ نعمت و فصل کی رعایت سے موجود۔ ادھر چائے کے گرما گرم سمادر ہیں کہ کسی گرم جوشی سے آپ کے استقبال کو بڑھ رہے ہیں ادھر برف کی قلفیاں ہیں کھیر کی باندیاں ہیں کہ دل و دماغ تک اپنی ٹھنڈک پہونچائے دیتی ہیں۔ ادھر حلوائی صاحب تھال پر تھال وہ لذیذ اور خوش رنگ مٹھائیوں کے جمائے ہوئے ہیں کہ ایک بار نظر ان پر پڑ جائے تو شایدوہیں جم کر رہ جائے اور بے شیر و شکر بنے واپس نہ آئے۔ ادھر کبابیوں کے ہاں سے خوشبوئیں وہ بلا کی آرہی ہیں اور سرخ ہیں وہ منظر دکھلا رہی ہیں کہ صبر کرنے والوں کے دل خود کباب ہوئے جارہے ہیں۔ پھر کھلونے والے اور پھل والے ایک سے بڑھ کر ایک بچوں اور بڑوں کے دل لبھانے والے دین دنیا کے ساتھ ۔ جنت کے سودے کے ساتھ ساتھ نفع عاجل کا بھی دم چھلا ۔

رمضان کی برکتوں کا کیا کہنا اور پھر آخر عشرہ کی راتوں کی قدر و قیمت کا تو کوئی حساب ہی نہیں ، لیکن انہیں رحمتوں کی وسعت بے کراں ملاحظہ ہو کہ عید کی رات شمار اجر و برکت کے لحاظ سے انہیں رمضان کی راتوں میں ہے جو اس رات کو جاگا اس نے گویا اخیر رمضان ہی کی ایک اور رات کو پایا۔ اور پھر یہ ارشاد بھی ایک بچے کی زبان سے ہو چکا ہے کہ عید کو تڑ کے ہی سے فرشتے یہ صدا دینے لگتے ہیں کہ لو گو نماز کو چلو اور عبادت کو آمادہ ہو۔ فرشتوں کی آواز بھلا ہمارے یہ مادی کان کیا سن سکتے ہیں، لیکن دل کے کان ہو نہ ہو اس آواز غیبی سے کچھ ربط ضرور رکھتے ہیں۔ جب ہی تو مشاہدہ ہے کہ نمازیوں کے پرے کے پرے عید گاہ اور مسجدوں کو روانہ ہو رہے ہیں۔ جنہیں سال بھر بھی دو ٹکریں زمین پر لگانا نصیب نہیں ہوتیں وہ آج خوشی خوشی دوگا نہ پڑھنے آرہے ہیں اور بڑے بڑے نمبری بے غسلے آج بغیر کسی کےٹھیلے اور ڈھکیلے خود ہی نہانے دھونے میں لگےہوئے ہیں۔

عید کا صدقہ کسی مقدار میں ہو۔ یہ تفصیل کسی فقہ کی کتاب میں دیکھ لیجئے یا کسی پڑھے لکھے سے پوچھ لیجئے۔ بہر حال تاکید اس کی آئی ہے کہ اسے نماز سے قبل ہی ادا کر دیا جائے نہ ادا ہو تو خود رمضان کے روزوں کی مقبولیت ہی کے ادھڑ میں پڑے رہ جانے کا خطرہ ہے۔ خالق تنہا اپنی عبادت سے راضی ہی کب ہوتا ہے جب تک مخلوق کے بھی حق ادا نہ کر لئے جائیں۔

جن لوگوں کو رمضان کے روزے رکھنے کی سعادت نصیب ہوئی ہے خصوصاً چلچلاتی ہوئی دھوپ کے موسم میں اور پہاڑ سے لمبے دن میں۔ ان کے دلوں سے کوئی قدر روزانہ افطار کی پوچھے

کس بے انداز مسرت وراحت کا وقت شام ہوتا ہے اور بندہ مومن مہینہ کے تیسوں دن اس مسرت سے شاد کام ہوتا رہتا ہے۔ عید کا دن کہنا چاہئے کہ سارے مہینہ کی مسرتوں کا جامع اور لب لباب ہوتا ہے جو بد نصیب روزہ کی سعادت ولذت سے محروم رہے وہ آج کی مسرت بے انداز کا اندازہ ہی نہیں کر سکتے اردو محاورہ میں روز عید یوم جشن کے مرادف ہے۔

جس طرح شب برات شب جشن کے ۔ جب عیش و عشرت کی مثال دینا ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ دن عید ہے اور رات شب برات ۔ یہ تو خیر نری شاعری ہے۔ شریعت نے ذمہ داری اور مسئولیت کا ضمیمہ بشر کے چھوٹے بڑے ہر عمل اختیاری کے ساتھ لگا رکھا ہے اور اس عارضی فانی وبے ثبات میں کوئی ایک عمل بھی خالص عیش و عشرت کا رہنے ہی نہیں دیا ہے۔ یوم عید بھی اس قانون سے مستثنی نہیں آج کا دن احتساب کا دن ہے۔ مہینہ بھر کے حساب کتاب کا دن ہے۔ خوش نصیب ہے وہ جس کا کھانا آج نیکیوں اور طاعتوں سے لبریز نظر آئے۔

شریعت اسلامی کے اندر گانے بجانے کی بطور آرٹ ، فن یا پیشہ کے کوئی وجہ جواز موجود نہیں۔ اس سرتا پا عمل اور سو فیصدی حقیقت پسندانہ نظام میں جب عام شاعری بھی قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھی گئی ہے تو اس قسم کے فنون لطیفہ کا کیا ذکرہے لیکن عید ہی کا ایسا موقعہ ہے کہ اس عام قاعدہ کے اندر کچھ گنجائش بطور استثناء نکل آتی ہے۔ رسول اللہ صلعم سے چھوٹی لڑکیوں کا گانا سننا جو منقول ہے وہ عید کے دن کا ہے۔