قومی راجدھانی کی مشہور دہلی یونیورسٹی (ڈی یو) نے کیمپس میں احتجاج کے حوالے سے اپنی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی ہے۔ ہائی کورٹ کے سخت تبصرے کے بعد یونیورسٹی نے مظاہرے کے حوالے سے مکمل پابندی ہٹا دی ہے اور اجازت پر مبنی نظام نافذ کر دیا ہے جس سے طلباء، فیکلٹی اور ملازمین کے لیے نئے قواعد طے کردیئے گئے ہیں۔ ہائی کورٹ کے اعتراض کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنے سابقہ فیصلے میں ترمیم کی ہے۔ اب کسی بھی قسم کے دھرنے، مظاہرے، ریلی یا جلسے کے لیے پیشگی اجازت لازمی کردی گئی ہے۔ یونیورسٹی نے واضح کیا ہے کہ کیمپس میں اجازت کے بغیر کوئی سرگرمی نہیں ہوگی۔
اس سلسلے میں پراکٹر آفس کی جانب سے جاری ہدایات میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس میں طلباء کا اخراج، ملاممین کی برخاستگی اور ضرورت پڑنے پر پولیس کارروائی بھی شامل ہو سکتی ہے۔ انتظامیہ نے اسے نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ضروری قدم قرار دیا ہے۔ غورطلب ہے کہ17 فروری کو یونیورسٹی نے ایک ماہ کے لیے ہر طرح کے دھرنے اورمظاہروں پر پوری طرح پابندی عائد کر دی تھی۔ اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا گیا جہاں عدالت نے اعتراض کرتے ہوئے اسے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اسی کے بعدً یونیورسٹی کو اپنے حکم میں ترمیم کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
اب کسی بھی پروگرام کے لیے منتظمین کو ذاتی طور پر دستخط شدہ درخواست پراکٹر کے دفتر میں جمع کرانی ہوگی۔ یہ درخواست متعلقہ پولیس افسران کو بھی دینا ہوگی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس سے احتساب کو یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے گا۔ نئے قوانین کے تحت منتظمین کو پروگرام کے بارے میں کم از کم 72 گھنٹے پہلے مکمل معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔ اس میں پروگرام کا فارمیٹ، دورانیہ، شرکاء کی تعداد اور مقررین کی تفصیلات شامل ہوں گی۔ یونیورسٹی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پوسٹس یا پوسٹرز کو اجازت نہیں مانا جائے گا اور باہر کے لوگوں کی شرکت پر سختی سے پابندی ہوگی۔
بتادیں کہ 13 فروری کو دہلی یونیورسٹی میں یو جی سی ایکویٹی قواعد کے حوالے سے ایک پروگرام کے دوران دو گروپوں کے درمیان تصادم کے بعد مظاہروں پر ایک ماہ کی پابندی عائد کردی گئی تھی۔ یہ سارا عمل اس واقعے کے بعد شروع ہوا جس کا اثر اب نئے قوانین کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔
