دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق لندن کے رہائشی ہند نژاد ڈاکٹر سنگرم پاٹل، جو ایک مشہور مواد تخلیق کار بھی ہیں، کو سنیچر کو ممبئی ہوائی اڈے پر BJP اور اس کے لیڈروں کے خلاف توہین آمیز سوشل میڈیا پوسٹس کی شکایت پر روک لیا گیا۔ BJP رکن کی شکایت پر انہیں بھارتیہ نیایا سنہیتا (BNS) کے تحت نوٹس دیا گیا اور تحقیقات میں شامل ہونے کی تصدیق کے بعد چھوڑ دیا۔ شکایت میں الزام لگایا گیا کہ ان پوسٹس سے مختلف گروہوں میں نفرت پھیل سکتی ہے۔
ممبئی ٹاک کے مطابق پاٹل کے خلاف سائبر کرائم ڈیپارٹمنٹ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا اور لوک آؤٹ نوٹس جاری کیا جو مسافروں کی جانچ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ پاٹل کا یوٹیوب چینل 4 لاکھ سے زائد سبسکرائبرز اور 5 کروڑ 60 لاکھ ویوز رکھتا ہے جبکہ فیس بک پیج پر ایک لاکھ فالوورز ہیں۔ ان کی ویڈیوز سیاسی تبصروں سمیت مختلف موضوعات پر مشتمل ہیں جن میں نریندر مودی حکومت کی تنقید بھی شامل ہے۔
پاٹل کی حراست پر کانگریس کے مہاراشٹر صدر ہرش وردھن سپکال نے برہمی کا اظہار کیا اور پوچھا کہ کیا ہندوستان میں جمہوریت زندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرات مندانہ سیاسی موقف رکھنے والے ڈاکٹر پاٹل کی گرفتاری بین الاقوامی شرمندگی ہے۔ سپکال نے مطالبہ کیا کہ ممبئی پولیس اور وزارت داخلہ فوری وضاحت کریں اور ایسی کارروائیوں کا جواز بتائیں۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر سیاسی تنقید اور آزادی اظہار کے تنازع کو مزید ہوا دیتا ہے جہاں بڑے پلیٹ فارمز والے افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
