ڈاکٹر عبدل السید کی تاریخی فتح: امریکی سینیٹ کے پہلے مسلم رکن منتخب، کرناٹک کے بھٹکل سے بھی خاندانی تعلق

امریکہ کی سیاست میں ایک نئی تاریخ رقم ہوئی ہے، جہاں مشی گن سے تعلق رکھنے والے مصری نژاد مسلم رہنما ڈاکٹر عبدالرحمن محمد السید (Abdul El-Sayed) نے امریکی سینیٹ کا انتخاب جیت کر تاریخ کے پہلے مسلم سینیٹر ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ ان کی اس کامیابی کی خاص بات یہ بھی ہے کہ ان کے خاندانی روابط کرناٹک کے ساحلی شہر بھٹکل سے وابستہ ہیں۔ وہ بھٹکل سے تعلق رکھنے والے معروف امریکی معالج ڈاکٹر طیب جوکاکو کے داماد ہیں۔

ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے کر کامیابی حاصل کرنے والے ڈاکٹر السید امریکی سینیٹ میں پہنچنے والے پہلے مسلم اور پہلے مصری نژاد امریکی قرار دیے گئے ہیں۔ ان کی کامیابی کو امریکی سیاست میں مذہبی و نسلی شناخت سے بالاتر ہوکر عوامی مسائل کی بنیاد پر انتخابی حمایت حاصل کرنے کی ایک اہم مثال کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

نام اور مذہبی شناخت کو بنایا گیا انتخابی ہتھیار

انتخابی مہم کے دوران ڈاکٹر السید کو ان کے عربی و مسلم نام اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر مسلسل تنقید اور حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ری پبلکن حلقوں کی جانب سے ان کے نام کا مذاق اڑایا گیا اور انہیں مصر کی اخوان المسلمون سے جوڑنے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ اس دوران انہوں نے سابقہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک دن انہیں ان کے نام کے بجائے انہیں ’’سینیٹر‘‘ کہہ کر مخاطب کرنا پڑے گا۔

تاہم ڈاکٹر السید نے انتخابی مہم کو مذہب اور شناخت کے بجائے عوام کی روزمرہ زندگی سے جڑے مسائل پر مرکوز رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے نام اور مذہب کو عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، جبکہ مذہب نہ تو پٹرول کی قیمتیں کم کرسکتا ہے اور نہ ہی اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ ختم کرسکتا ہے۔

انہوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخابات میں پارٹی کی سینئر رہنما ہیلی اسٹیونس کو شکست دی اور بعد ازاں عام انتخابات میں مائیک راجرز کو بھی مات دے کر سینیٹ کی نشست حاصل کرلی۔

تعلیم، طب اور عوامی خدمات کا شاندار سفر

31 اکتوبر 1984 کو مشی گن کے شہر روچسٹر ہلز میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر عبدالرحمن السید کے والد محمد السید مصر سے امریکہ منتقل ہوئے تھے۔ وہ پیشے سے انجینئر ہونے کے ساتھ امام بھی تھے، جبکہ ان کی والدہ فتن الکومی نرس پریکٹیشنر ہیں۔

ڈاکٹر السید نے یونیورسٹی آف مشی گن سے بایولوجی اور سیاسیات میں اعلیٰ امتیاز کے ساتھ گریجویشن کیا۔ بعد ازاں انہیں معروف روڈس اسکالرشپ حاصل ہوئی، جس کے تحت انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے پبلک ہیلتھ میں ڈاکٹریٹ (DPhil) کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد کولمبیا یونیورسٹی سے میڈیکل ڈگری (MD) حاصل کی اور وبائی امراض کے شعبے میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

محض 30 سال کی عمر میں انہیں ڈیٹرائٹ شہر کے محکمہ صحت کا ایگزیکٹیو ڈائریکٹر مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے مالی مشکلات سے دوچار محکمے کی بحالی اور ماحولیاتی آلودگی کے خلاف اقدامات میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے پیٹرولیم ریفائنری سے خارج ہونے والی مضر گیسوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مہم چلائی، جبکہ فلنٹ واٹر بحران کے دوران اسکولوں میں بچوں کو سیسے کی آلودگی سے محفوظ رکھنے کے لیے پانی کی جانچ کا عمل شروع کیا۔

بعد ازاں وین کاؤنٹی کے ہیلتھ ڈائریکٹر کی حیثیت سے انہوں نے ایک ایسا پروگرام نافذ کیا جس کے ذریعے ایک لاکھ سے زائد شہریوں کے تقریباً 95 ملین ڈالر کے طبی قرضے منسوخ کرنے میں مدد ملی۔

بھٹکل سے خاندانی تعلق، معروف سماجی رہنما کے نواسے ہیں سسر

ڈاکٹر عبدالرحمن السید کی کامیابی بھٹکل کے لیے بھی خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی اہلیہ ڈاکٹر سارہ جوکاکو، بھٹکل سے تعلق رکھنے والے معروف امریکی معالج ڈاکٹر طیب جوکاکو کی صاحبزادی ہیں۔ ڈاکٹر طیب جوکاکو امریکہ میں گردوں کے امراض کے ماہر (Nephrologist) کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں اور وہاں مختلف سماجی و فلاحی تنظیموں سے بھی وابستہ ہیں۔

ڈاکٹر طیب جوکاکو، بھٹکل کی معروف سماجی و سیاسی شخصیت مرحوم شمس الدین جوکاکو کے فرزند ہیں۔ مرحوم شمس الدین جوکاکو نے ایک مرتبہ بمبئی پریزیڈنسی اور دو مرتبہ ہونّاور حلقے سے انتخاب جیتا تھا۔ وہ وزیرِ مملکت برائے مالیات (ڈپٹی منسٹر) کے عہدے پر بھی فائز رہے تھے۔

ڈاکٹر عبدالرحمن السید اور ڈاکٹر سارہ کی شادی 2006 میں ہوئی تھی اور ان کی دو بیٹیاں ہیں۔ یوں امریکی سینیٹ میں ان کی تاریخی کامیابی کے ساتھ بھٹکل کا نام بھی ایک بین الاقوامی سیاسی پیش رفت سے جڑ گیا ہے۔

کارپوریٹ چندوں کے مخالف، عوامی فلاح کے حامی

سیاسی نظریات کے اعتبار سے ڈاکٹر السید، سینیٹر برنی سینڈرز کی ترقی پسند معاشی پالیسیوں سے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ وہ بڑی کارپوریٹ کمپنیوں سے انتخابی چندہ لینے کے مخالف ہیں اور عام شہریوں کے چھوٹے عطیات کے ذریعے انتخابی مہم چلانے کی حمایت کرتے ہیں۔

وہ امریکہ میں تمام شہریوں کے لیے سرکاری مالی اعانت پر مبنی صحت بیمہ کی سہولت، یعنی ’’میڈیکیئر فار آل‘‘ کے حامی ہیں۔ اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت (AI) کے بے قابو پھیلاؤ سے مزدوروں کے حقوق کو لاحق خطرات پر بھی تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ بڑے ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی بجلی کی کھپت کا اضافی بوجھ عام صارفین پر نہیں پڑنا چاہیے۔

غزہ جنگ پر سخت موقف، اسرائیل کی پالیسیوں کے ناقد

خارجہ پالیسی کے معاملے میں ڈاکٹر السید نے غزہ پر اسرائیلی جنگ کو کھلے طور پر نسل کشی قرار دیا ہے اور اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اسرائیل نواز لابنگ گروپ اے آئی پی اے سی (AIPAC) کے سیاسی اثر و رسوخ پر بھی سخت تنقید کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکی عوام کے ٹیکس کی رقم بیرونی جنگوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے بجائے ملک کے تعلیمی نظام، صحت اور عوامی فلاح و بہبود پر خرچ ہونی چاہیے۔

ڈاکٹر عبدالرحمن السید کی کامیابی محض ایک انتخابی جیت نہیں بلکہ امریکی سیاست میں مسلم شناخت، تارکین وطن کی نمائندگی اور عوامی مسائل پر مبنی سیاست کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ بالخصوص بھٹکل سے ان کے خاندانی تعلق نے اس کامیابی کو ہندوستانی مسلمانوں اور بھٹکل کے عوام کے لیے بھی خصوصی دلچسپی کا موضوع بنا دیا ہے۔

شیئر کریں۔