بنگلورو (فکروخبر نیوز) کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے بنگلورو میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین اور کوریج کے لیے موجود صحافیوں پر پولیس کارروائی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ منگل 13 اکتوبر کو جاری اپنے ایک اہم بیان میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پولیس کی جانب سے غیر ضروری طاقت کے استعمال یا کسی بھی قسم کی زیادتی کا ثبوت ملا تو ذمہ دار افسران کے خلاف سخت جواب دہی اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ڈی کے شیوکمار نے واضح الفاظ میں کہا کہ پرامن احتجاج کا حق ہماری جمہوریت کی بنیادی روح ہے۔ چاہے مظاہرین الیکشن کمیشن، ریاستی حکومت یا خود میرے نظریات سے اختلاف رکھتے ہوں، ان کے جمہوری حق کا احترام لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دہلی میں اپنے لیے احتجاج کے حق کا مطالبات کریں اور بنگلورو میں دوسروں کو اس سے محروم کر دیں، یہ دوہرا معیار قائم نہیں رہ سکتا۔ کرناٹک کو وہی جمہوری معیارات برقرار رکھنے ہوں گے جو وہ ملک کے دیگر حصوں سے توقع کرتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ پیر کے روز اس وقت پیش آیا جب چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ایس آئی آر کے فیصلے کے خلاف احتجاجی کارکنان ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کے قریب جمع ہوئے تھے۔ مارچ شروع ہونے سے پہلے ہی پولیس نے متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ اس دوران خواتین مظاہرین اور کوریج کرنے والے صحافیوں نے پولیس پر بدسلوکی اور بے جا طاقت کے استعمال کا الزام لگایا تھا۔ ریاستی وزیرِ داخلہ پرینک کھرگے نے بھی اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تفصیلی جائزے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ پولیس کو پرامن مظاہروں میں رکاوٹ بننے کے بجائے تعاون کرنا چاہیے۔




