کرناٹک کی سیاست میں ایک بڑی اور اہم پیش رفت کے طور پر ریاست میں نئی کابینہ کی تشکیل کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ کانگریس قیادت نے گورنرِ کرناٹک کو مجوزہ وزراء کی فہرست ارسال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ اور کابینہ کے ارکان کو حلف دلانے کی باضابطہ درخواست کی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق کانگریس کے ریاستی صدر اور سینئر رہنما ڈی کے شیوکمار وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے جا رہے ہیں، جبکہ ایک اور سینئر کانگریس قائد ڈاکٹر جی پرمیشور کو نائب وزیر اعلیٰ کی اہم ذمہ داری سونپے جانے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس نئی سیاسی شروعات کو ریاست کے انتظامی امور اور مستقبل کی حکمت عملی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
گورنر کو بھیجی گئی مجوزہ فہرست میں مجموعی طور پر چودہ وزراء کے نام شامل کیے گئے ہیں۔ ان ارکان میں کے ایچ منی اپا، کے جے جارج، ایم بی پاٹل، رام لنگا ریڈی، ستیش جارکی ہولی، کرشنا بائرے گوڈا، پریانک کھرگے، یو ٹی قادر، ایشور کھنڈرے، یتھیندر سدارامیا، بائرتی سریش اور شرن پرکاش پاٹل کے نام نمایاں ہیں۔ سینئر کانگریس رہنما ایم بی پاٹل نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت کے دوران اس فہرست میں اپنے نام کی موجودگی کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد نئی حکومت کی شکل اختیار کرنے کے عمل پر مہر تصدیق ثبت ہو گئی ہے۔
اس نئی کابینہ کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ ریاستی اسمبلی کے اسپیکر یو ٹی قادر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے تاکہ وہ وزرات کا قلمدان سنبھال سکیں۔ موصولہ دستاویزات اور ذرائع کے مطابق یو ٹی قادر موجودہ کابینہ میں واحد مسلم نمائندے کے طور پر شامل کیے جا رہے ہیں۔ مسلم کمیونٹی کے حقوق، سیاسی نمائندگی اور سماجی مسائل کے لحاظ سے یو ٹی قادر کی کابینہ میں شمولیت کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے، تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق اتنی بڑی آبادی والی ریاست کی کابینہ میں صرف ایک مسلم چہرے کی موجودگی سماجی توازن اور مناسب نمائندگی کے حوالے سے ایک گہرا سوالیہ نشان بھی ہے۔
سیاسی حلقوں میں اس مجوزہ فہرست کو علاقائی اور سماجی توازن قائم رکھنے کی ایک دانستہ کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر یو ٹی قادر، پریانک کھرگے اور یتھیندر سدارامیا جیسے چہروں کو شامل کر کے کانگریس نے مختلف طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کا پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔ اس سیاسی تبدیلی کا براہ راست اثر ریاست کے قانون، امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور اقلیتوں کے تحفظ سے جڑی پالیسیوں پر پڑے گا۔ عوامی حلقے امید ظاہر کر رہے ہیں کہ نئی انتظامیہ ریاست میں سماجی ہم آہنگی اور انصاف کے اصولوں پر کاربند رہے گی۔
نئی کابینہ کی تشکیل کو ریاست کی مستقبل کی سمت متعین کرنے کے ساتھ ساتھ کانگریس حکومت کے انتظامی اور ترقیاتی ایجنڈے کے لیے سنگ میل سمجھا جا رہا ہے۔ حلف برداری کی یہ باوقار تقریب دوپہر چار بج کر پانچ منٹ پر منعقد ہو رہی ہے، جس کے فوراً بعد تمام نئے وزراء کے قلمدانوں کا باقاعدہ اعلان متوقع ہے۔ پوری ریاست کی عوام اور سیاسی حلقوں کی نظریں اب اس نئی کابینہ کی اولین ترجیحات اور گورننس کے طریقہ کار پر ٹکی ہوئی ہیں۔




