باگیشور دھام کے سربراہ پنڈت دھیریندر کرشنا شاستری نے ایک بار پھر اپنے متنازع بیان سے ملک بھر کی سیاست اور سماجی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ناگپور میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران شاستری نے ہندو خاندانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ چار بچے پیدا کریں اور ان میں سے ایک بچے کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے لیے وقف کر دیں تاکہ وہ ملک و قوم کی خدمت کر سکے۔ یہ بیان 24 اپریل 2026 کو ناگپور میں بھارت درگا مندر کے سنگ بنیاد کی تقریب اور دھرم سبھا کے دوران دیا گیا، جہاں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت اور مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس سمیت کئی اہم شخصیات موجود تھیں۔
دھیریندر شاستری نے آر ایس ایس کے رضاکاروں کی خدمات کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی ملک پر کوئی آفت آتی ہے تو عام لوگ اپنی جان بچانے کی فکر کرتے ہیں، لیکن سنگھ کے کارکن دوسروں کی مدد کے لیے میدان میں ڈٹ جاتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ملک کو ایسے ہی وقف شدہ افراد کی ضرورت ہے جو مذہب، ثقافت اور وطن کی حفاظت کر سکیں۔ شاستری کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں سناتن دھرم کے تحفظ اور ‘اکھنڈ بھارت’ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے نوجوانوں کی بڑی فوج تیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
اس بیان کے سامنے آتے ہی سوشل میڈیا اور سیاسی میدان میں بحث چھڑ گئی ہے۔ جہاں شاستری کے حامی اسے حب الوطنی اور سماجی خدمت کے لیے ایک تحریک قرار دے رہے ہیں، وہی ناقدین اسے ملکی آبادی کی پالیسیوں اور انفرادی آزادی کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈروں نے اس بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا مذہبی رہنماؤں کا اس طرح کے سیاسی اور سماجی معاملات میں مداخلت کرنا درست ہے۔ خاص طور پر مہاراشٹر کی اپوزیشن جماعتوں نے اس بیان پر سخت اعتراض جتایا ہے اور اسے آئینی اقدار کے منافی قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب دھیریندر شاستری نے آبادی یا ہندو راشٹر کے حوالے سے کوئی بیان دیا ہو۔ وہ اس سے قبل بھی کئی بار سناتن دھرم کو درپیش خطرات کا ذکر کر چکے ہیں اور ہندوؤں کے اتحاد پر زور دیتے رہے ہیں۔ ناگپور کی اس تقریب میں مرکزی وزیر نتن گڈکری اور دیگر اہم سیاسی و مذہبی رہنماؤں کی موجودگی نے اس معاملے کو مزید طول دے دیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس بیان کے دور رس سیاسی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر آنے والے انتخابی ماحول میں اس طرح کے بیانات پولرائزیشن کا سبب بن سکتے ہیں۔



