قومی دارالحکومت دہلی کے جنوب مشرقی علاقے تغلق آباد میں ہنومان جینتی کے جلوس کے دوران ایک حساس واقعہ پیش آیا، جہاں دو افراد نے مسجد کی عمارت پر چڑھ کر زعفرانی جھنڈا لہرانے کی کوشش کی، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں کو حراست میں لے لیا۔ اس واقعے نے مقامی مسلم آبادی میں خوف و تشویش کی فضا پیدا کر دی، تاہم پولیس کے مطابق صورتحال کو بروقت قابو میں کر لیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ بدھ کی دوپہر اس وقت پیش آیا جب ایک مذہبی جلوس علاقے سے گزر رہا تھا۔ اسی دوران دو افراد اچانک مسجد کی عمارت پر چڑھ گئے اور وہاں زعفرانی جھنڈا لہرانے لگے۔ عینی شاہدین اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ یہ افراد جھنڈا لہراتے ہوئے اشارے کر رہے تھے جبکہ قریب ہی جلوس میں موسیقی جاری تھی۔
موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے فوری مداخلت کرتے ہوئے دونوں افراد کو حراست میں لے لیا اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روک دیا۔ پولیس نے بتایا کہ اس واقعے کے دوران کسی قسم کا تشدد پیش نہیں آیا اور علاقے میں امن و امان برقرار ہے، تاہم احتیاطی طور پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔
اس واقعے کے بعد علاقے میں رہنے والے مسلم خاندانوں میں خوف اور بے چینی دیکھی گئی، کیونکہ حالیہ برسوں میں اس نوعیت کے واقعات مختلف ریاستوں میں مذہبی جلوسوں کے دوران سامنے آتے رہے ہیں، جہاں بعض عناصر اشتعال انگیزی کرتے ہوئے مساجد کے قریب نعرے بازی یا جھنڈے لہرانے جیسے اقدامات کرتے ہیں، جو فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دیتے ہیں۔
تاحال پولیس کی جانب سے گرفتار افراد کے خلاف عائد کی جانے والی دفعات یا مقدمے کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ مذہبی جلوسوں کے دوران حساس مقامات کے قریب اشتعال انگیز سرگرمیوں کو روکنے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے جا رہے، تاکہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھا جا سکے۔
