دہلی ہائی کورٹ نے 2020 دہلی فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کیس میں سابق کانگریس کونسلر عشرت جہاں کو دی گئی ضمانت کے خلاف دہلی پولیس کی اپیل مسترد کر دی ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کو عشرت جہاں کے لیے بڑی قانونی راحت قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعہ کے روز جسٹس نوین چاولہ اور جسٹس رویندر دودیجا پر مشتمل بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ عشرت جہاں کو خصوصی عدالت کی جانب سے ضمانت دیے جانے کے بعد چار سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ اس دوران ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس سے ظاہر ہو کہ انہوں نے ضمانت کی کسی شرط کی خلاف ورزی کی ہو۔
یہ مقدمہ فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں پیش آنے والے خونی فسادات سے متعلق ہے، جہاں شہریت ترمیمی قانون کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ ان فسادات میں 53 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے، جبکہ مرنے والوں میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔
فسادات کے بعد جنوری 2020 سے ستمبر 2020 کے درمیان کئی طلبہ رہنماؤں، سماجی کارکنوں اور سیاسی شخصیات کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ملزمان پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام قانون، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے قانون، اسلحہ ایکٹ اور تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔
دہلی پولیس کا دعویٰ رہا ہے کہ یہ فسادات محض اچانک پیش آنے والے واقعات نہیں تھے بلکہ مرکزی حکومت کو بدنام کرنے کے لیے ایک منظم سازش کا حصہ تھے۔ پولیس کے مطابق شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج منظم کرنے والے عناصر نے تشدد کی منصوبہ بندی کی تھی۔
عشرت جہاں کو فروری 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں مارچ 2022 میں خصوصی عدالت نے انہیں ضمانت دیتے ہوئے کہا تھا کہ چارج شیٹ میں ایسا کوئی الزام موجود نہیں کہ وہ فسادات کے دوران جائے وقوعہ پر موجود تھیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ان واٹس ایپ گروپس کا حصہ نہیں تھیں جنہیں مبینہ سازش میں اہم قرار دیا گیا تھا۔
ہائی کورٹ میں دائر اپیل میں دہلی پولیس نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ نچلی عدالت نے دستیاب شواہد اور بیانات کو نظر انداز کیا۔ پولیس نے الزام لگایا کہ ضمانت کا حکم ایسے ثبوتوں کو مسترد کرتے ہوئے جاری کیا گیا جو بڑے پیمانے پر تشدد بھڑکانے کی منصوبہ بندی کی نشاندہی کرتے تھے۔
پولیس نے مزید دعویٰ کیا کہ فسادات کے وقت کا انتخاب اس انداز میں کیا گیا تھا کہ امریکی صدر کے دورہ ہند کے دوران عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کی جا سکے۔ تاہم ہائی کورٹ نے ان دلائل کو قبول نہیں کیا اور ضمانت منسوخ کرنے سے انکار کر دیا۔
دوسری جانب اسی مقدمہ میں ٹرائل کورٹ نے رواں سال 24 جنوری کو عشرت جہاں کے خلاف اقدام قتل اور فساد سے متعلق الزامات بھی عائد کیے تھے، جس کے بعد مقدمہ کی سماعت جاری ہے۔



