دہلی ہائی کورٹ نے عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال کی عدالتی کارروائی سے متعلق ویڈیوز سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہٹانے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے میٹا، گوگل اور ایکس سمیت متعلقہ پلیٹ فارمز کو ہدایت دی کہ وہ ان ویڈیوز کو فوری طور پر ہٹائیں جن میں کیجریوال کی جانب سے جسٹس سورنا کانتا شرما سے خود کو مقدمہ سے الگ کرنے کی درخواست سے متعلق کارروائی شامل ہے۔
یہ حکم جسٹس وی کامیشور راؤ اور جسٹس منپریت پریتم سنگھ اروڑا پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ایک عوامی مفاد عرضی کی سماعت کے دوران دیا۔ درخواست میں الزام لگایا گیا تھا کہ عدالتی کارروائی کی ویڈیوز غیر مجاز طور پر ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر پھیلائی گئیں، جو عدالت کے وقار کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔
درخواست گزار نے اروند کیجریوال کے ساتھ معروف صحافی رویش کمار، کانگریس رہنما دگ وجے سنگھ اور عام آدمی پارٹی کے کئی رہنماؤں کے نام بھی شامل کیے۔ ان میں منیش سسودیا، سنجے سنگھ، سنجیو جھا، پورندیپ ساہنی، جرنیل سنگھ، مکیش اہلاوت اور ونئے مشرا شامل ہیں۔ عدالت نے تمام متعلقہ افراد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔
سماعت کے دوران میٹا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ فیس بک اور انسٹاگرام پر عدالتی احکامات کے مطابق کارروائی کی جا چکی ہے۔ گوگل نے مؤقف اختیار کیا کہ یوٹیوب پر نشان زد کچھ ویڈیوز اصل عدالتی کارروائی کی نہیں ہیں، تاہم عدالت نے ہدایت دی کہ جن ویڈیوز میں کارروائی کے کلپس شامل ہوں، انہیں بھی ہٹایا جائے۔ اسی نوعیت کی ہدایات پلیٹ فارم ایکس کے لیے بھی جاری کی گئیں۔
یہ معاملہ دہلی شراب پالیسی کیس سے جڑا ہوا ہے، جس میں مرکزی تفتیشی بیورو نے کیجریوال اور دیگر ملزمان کو ٹرائل کورٹ سے ملی راحت کو چیلنج کیا ہے۔ کیجریوال اور دیگر نے جسٹس سورنا کانتا شرما سے کیس سننے سے الگ ہونے کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اپنایا تھا کہ جانبداری کے خدشات سنگین ہیں۔
تاہم جسٹس شرما نے حال ہی میں یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ خود کو الگ کرنا دانشمندی نہیں بلکہ ذمہ داری سے دستبرداری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی طاقت الزامات کے باوجود غیر جانبدارانہ فیصلے میں ہے اور وہ اصل مقدمہ پر اثرانداز ہوئے بغیر سماعت جاری رکھیں گی۔
اصل سی بی آئی کیس کی اگلی سماعت 29 اپریل کو مقرر ہے۔ اس مقدمہ میں الزام ہے کہ دہلی حکومت کی سابق شراب پالیسی میں ایسی تبدیلیاں کی گئیں جن سے بعض تھوک تاجروں کو فائدہ پہنچا اور بدعنوانی کے امکانات پیدا ہوئے۔ تاہم فروری میں ایک ٹرائل کورٹ نے کیجریوال سمیت 22 افراد کو بری کرتے ہوئے کہا تھا کہ پالیسی میں کسی وسیع مجرمانہ سازش کے شواہد نہیں ملے۔
سیاسی حلقوں میں اس معاملہ کو عام آدمی پارٹی اور مرکزی ایجنسیوں کے درمیان جاری کشمکش کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ قانونی ماہرین کے مطابق عدالتی کارروائی کی غیر مجاز ریکارڈنگ مستقبل میں مزید سخت عدالتی اقدامات کا سبب بن سکتی ہے۔




