دنیا میں منتشر وبا "کورونا وائرس "کے تعلق سے اگر عام تاثرات اور لوگوں کے دلوں میں موجود احساسات کو ایک لفظ میں بیان کیا جائے، تو وہ "خوف " یا "ڈر "ہوگا، جس کی مختلف نوعتیں اور شکلیں ہو سکتی ہیں۔ اسی "ڈر " کو موضوع بناکر شہرِ بھٹکل کے ایک شاعر مولانا محمد نعمان اکرمی ؔ ندوی نے غیر منقوط کلام (اردوئے معرا) کواپنے مخصوص اور مؤثر انداز میں قلمبند کیا ہے –(ادارہ فکر و خبر۔ بھٹکل)
بقلم۔ محمد نعمان اکرمیؔ ندوی
آدمی کو لگے ، آدمی سے ہے ڈر ہر گلی ، ہر ڈگر ، ہر در و دار ڈر ملک در ملک ڈر ، گاؤں در گاؤں ڈر ہر سو ، ہر لمحہ اور ہر گھڑی ڈر ہی ڈر آدمی کو لگے ، آدمی سے ہے ڈر
دل کا محور ہے اور دل سے وہ دور ہے سارا عالم سمٹ کے ہے ، محصور ہے گھر کا گھر درد اور دکھ سے معمور ہے عام ہو کے ہے موہوم مہلک کا ڈر آدمی کو لگے ، آدمی سے ہے ڈر
حال عالم کا سارا دگرگوں ہوا دل ملال و الم سے ہوا ادھ مرا مرگ سے ہو رہا روگ کا ڈر سوا حد سے آگے ہوا ڈر کے ماروں کا ڈر آدمی کو لگے ، آدمی سے ہے ڈر
لٹ گئے مال و در ، کم ہوئے حوصلے دل سے احساس کے گم ہوئے ولولے کالعدم ہوگئے وصل کے سلسلے لا محالہ ہوا ، لمس اور مس کا ڈر آدمی کو لگے ، آدمی سے ہے ڈر
اے مسلماں ، دعا کر کہ ڈر دور ہو سارا ماحول ہر طور مسرور ہو آدمی درد اور دکھ سے محرور ہو ڈر ہے اللہ کا اکرمیؔ گر ہے ڈر آدمی کو لگے ، آدمی سے ہے ڈر
تحریر کردہ بتاریخ۔ 28/شعبان المعظم 1441ہجری ۔ 22/اپریل 2020 عیسوی