بھٹکل:(فکروخبرنیوز) جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے شعبۂ ثانویہ کی اللجنة العربیة کے زیرِ اہتمام منعقدہ ثقافتی اجلاس علم، فکر، تہذیب اور تخلیق کا حسین امتزاج تھا ، کل رات ساڑھے آٹھ بجے شعبۂ ثانویہ کے احاطہ میں منعقدہ اس پروگرام میں طلبہ کی علمی پختگی، ہمہ جہت صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
پروگرام کا آغاز پُرنور قراءتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کے بعد اجتماعی نعت نے فضا کو عقیدت و محبتِ رسول ﷺ سے معطر کر دیا۔ عربی، اردو، فارسی، انگریزی اور کنڑی زبانوں میں پیش کیے گئے اجتماعی ترانوں نے طلبہ کی لسانی مہارت کو اجاگر کیا جب کہ عربی، اردو اور انگریزی میں پیش کیے گئے مکالموں نے نہایت دل چسپ انداز میں فکری نکات کو سامعین کے سامنے رکھا۔
پروگرام کا سب سے نمایاں اور توجہ طلب حصہ ’’وقف بل – عدالت‘‘ کے عنوان سے پیش کیا گیا خصوصی اسٹیج مظاہرہ تھا، جس میں موجودہ سماجی و قانونی تناظر کو نہایت سنجیدگی، شعور اور فہم کے ساتھ پیش کیا گیا۔ اس حصے نے سامعین کو نہ صرف معلومات فراہم کیں بلکہ انہیں سوچنے اور اپنے سماجی کردار پر غور کرنے پر بھی مجبور کیا۔ اسی طرح مسلم سائنسدانوں پر مبنی خصوصی پروگرام نے امتِ مسلمہ کی علمی عظمت اور سائنسی خدمات کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔
قرآنِ کریم کی روشنی میں معاشرتی مسائل کے حل پر مبنی گفتگو اور قرآنی معجزات کے مظاہر نے حاضرین کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑا، جب کہ اللجنة العربیة کی سالانہ کارکردگی پر مشتمل ڈاکومنٹری نے شعبے کی تعلیمی، دعوتی اور فکری سرگرمیوں کو نہایت منظم اور جامع انداز میں پیش کیا۔ اللجنۃ العربیہ کی سالانہ کارکردگی پر مشتمل تفصیلی رپورٹ سکریٹری اللجنۃ شعبۂ ثانویہ رائد قاضی نے پیش کی۔ پروگرام کا اختتام استاد جامعہ مولانا سید سالک ندوی کی دعا پر ہوا جس کو رائد قاضی اور اس کے ساتھیوں نے بڑے دلکش انداز میں پیش کیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مہتمم جامعہ مولانا مقبول احمد ندوی نے پروگرام میں شریک تمام طلبہ کو مبارکباد پیش کی اور اساتذہ کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ نونہالوں کی تعلیم وتربیت کے لیے کوشاں ہے اور اس کے لیے جامعہ کے ذمہ داران سے لے کر اساتذہ اپنی محنت اور کوششیں صرف کررہے ہیں ، مولانا نے سرپرستوں سے بھی گزارش کی کہ وہ بھی طلبہ کی تعلیم وتربیت کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور اساتذہ اور ذمہ داران کا تعاون کریں۔ انہوں نے اپنے بچوں کو نظر رکھنے اور معاشرہ میں پھیلی برائیوں سے ان کو بچانے کے لیے کوششیں کرنے پر بھی زور دیا۔
پروگرام میں نظم و ضبط ، حسنِ ترتیب اور فکری گہرائی نمایاں رہی۔ اساتذہ، مہمانانِ کرام اور شرکاء نے اللجنة العربیة کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے ثقافتی اور فکری پروگرام طلبہ کی شخصیت سازی، اعتماد سازی اور ہمہ جہت تربیت میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

