کانگریس پارٹی نے ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ بندی میں پاکستان کے ممکنہ کردار کو لے کر وزیر اعظم Narendra Modi کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی بڑی ناکامی قرار دیا ہے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری Jairam Ramesh نے کہا کہ اس پیش رفت نے نہ صرف حکومتی دعوؤں کو کمزور کیا بلکہ عالمی سطح پر بھارت کی سفارتی حکمت عملی پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
جے رام رمیش نے اپنے بیان میں کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے بعد امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان ہوا، جس کا عالمی سطح پر محتاط خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس تنازع کی جڑیں 28 فروری کو ایران میں اعلیٰ شخصیات کی ٹارگٹڈ ہلاکتوں سے جڑی ہیں، جو وزیر اعظم مودی کے اسرائیل دورے کے فوراً بعد پیش آئیں، اور اس سے بھارت کی عالمی شبیہ متاثر ہوئی۔
کانگریس رہنما نے مودی حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور مغربی کنارے میں اس کی پالیسیوں پر خاموشی اختیار کی، جو ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے شایانِ شان نہیں۔ ان کے مطابق جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کی خبریں حکومت کی “ذاتی نوعیت کی سفارت کاری” کے لیے ایک بڑا دھچکا ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور میں 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد اس سمت میں مؤثر سفارتی کوششیں کی گئی تھیں۔ ان کے مطابق آج بھی حکومت دنیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکی کہ پاکستان دہشت گردی کی پشت پناہی کرتا ہے۔
جے رام رمیش نے پاکستان کی معاشی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک کمزور معیشت رکھنے والا ملک اگر اس نوعیت کی اہم سفارتی پیش رفت میں کردار ادا کر رہا ہے تو یہ بھارت کی خارجہ پالیسی کے لیے تشویشناک ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر بھارت اس معاملے میں مؤثر کردار ادا کرنے میں کیوں ناکام رہا۔
انہوں نے ’آپریشن سندور‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اب تک یہ واضح نہیں کیا کہ 10 مئی 2025 کو اس کارروائی کو اچانک کیوں روک دیا گیا، جبکہ اس کا اعلان سب سے پہلے امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے کیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی صدر بار بار اس کا کریڈٹ لیتے رہے، مگر بھارتی قیادت کی جانب سے اس پر کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔
آخر میں کانگریس نے وزیر خارجہ S. Jaishankar کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے پاکستان کو “دلال” قرار دیا تھا، اور کہا کہ موجودہ حالات میں حکومت کے یہ بیانات خود اس کے لیے مشکلات کا باعث بن رہے ہیں۔ پارٹی کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف خارجہ پالیسی بلکہ بھارت کی عالمی ساکھ کے لیے بھی ایک بڑا امتحان ہے۔
