چامراج نگر(فکروخبرنیوز) کرناٹک میں مسلم تنظیموں اور سماجی اداروں کی جانب سے کانگریس حکومت کے خلاف حالیہ سخت موقف اور "حق تلفی” کے الزامات کے بعد وزیراعلیٰ سدارامیا نے خاموشی توڑ دی ہے۔ چامراج نگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ان خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی اور دعویٰ کیا کہ پارٹی کی سطح پر تمام اہم فیصلے اقلیتی نمائندوں کی مشاورت سے ہی کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سدارامیا نے اقلیتی برادری کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ "پارٹی کے تمام فیصلے اقلیتی رہنماؤں کی موجودگی اور ان کے مشورے کے بعد ہی کیے گئے تھے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ انہیں نظر انداز کیا گیا۔” تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ فیصلوں کے اعلان کے بعد کچھ حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے ہیں، جنہیں سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔
داونگیرے جنوبی اور باگلکوٹ کے ضمنی انتخابات کے حوالے سے جاری سیاسی رسہ کشی اور ٹکٹ کی تقسیم پر پیدا ہونے والی ناراضگی کے باوجود، وزیراعلیٰ نے پراعتماد لہجے میں کہا کہ ان حلقوں میں کانگریس کی پوزیشن مستحکم ہے۔ انہوں نے پیشگوئی کی کہ ان دونوں اہم نشستوں پر کانگریس کے امیدوار ہی کامیابی حاصل کریں گے اور عوام ایک بار پھر حکومت کی پالیسیوں پر مہرِ تصدیق ثبت کریں گے۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل ہی ریاست کی 25 سے زائد بڑی مسلم تنظیموں نے کانگریس قیادت کو ایک مشترکہ مکتوب ارسال کیا تھا، جس میں پارٹی پر "امتیازی سلوک” اور "مسلم قیادت کی تذلیل” کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ تنظیموں نے خبردار کیا تھا کہ اگر حکومت نے اپنا رویہ نہ بدلا تو وہ اپنے سیاسی متبادل تلاش کرنے میں آزاد ہوں گے۔ وزیراعلیٰ کا حالیہ بیان اسی عوامی دباؤ اور سیاسی تناؤ کو کم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
حقیقت ٹائمز کے شکریہ کے ساتھ




