کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج : جنید ملک نے پولیس تشدد کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا

دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے زیر اہتمام ہونے والے طلبہ احتجاج کے دوران مظاہرین کو محض انسانی بنیادوں پر کھانا اور پانی فراہم کرنے والے غازی آباد کے باشندے اور ایل ایل بی کے طالب علم محمد جنید ملک نے سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔ جنید ملک نے عدالت عظمیٰ میں ایک درخواست دائر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ دہلی پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے انہیں اور ان کے اہل خانہ کو مسلسل غیر قانونی حراست، ہراسانی اور دھمکیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق مظاہرین کو کھانا فراہم کرنا کوئی سیاسی عمل یا جرم نہیں بلکہ محض ایک انسانی فریضہ تھا۔

درخواست میں فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق احتجاج کے اختتام کے بعد پولیس اہلکار اچانک جنید کے گھر پہنچے اور انہیں نیز ان کے گھر والوں کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ پولیس نے انہیں کئی گھنٹوں تک غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا اور اس دوران نہ تو کوئی باضابطہ ایف آئی آر دکھائی گئی اور نہ ہی گرفتاری کا کوئی میمو فراہم کیا گیا۔ جنید کا کہنا ہے کہ حراست کے دوران ان سے بار بار یہ سوال پوچھا گیا کہ انہوں نے احتجاجی جگہ کا دورہ کیوں کیا اور وہاں موجود بھوکے طلبہ کو کھانا اور پانی کیوں فراہم کیا۔ جنید نے واضح کیا کہ انہوں نے کسی سیاسی کارکن کے طور پر نہیں بلکہ محض اخلاقی اور انسانی ہمدردی کے تحت مدد کی تھی۔

محمد جنید ملک نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ پولیس کی یہ انتقامی کارروائی صرف ان تک محدود نہیں رہی بلکہ ان کے والدین اور خاندان کے دیگر افراد کو بھی بار بار تھانے بلا کر ذہنی اذیت دی گئی۔ اس مسلسل دباؤ کے باعث نہ صرف ان کے خاندان کی عزّتِ نفس اور سکون متاثر ہوا بلکہ ان کی قانونی تعلیم پر بھی شدید برا اثر پڑا ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ پولیس کو ان کے خلاف کسی بھی قسم کی زبردستی کی کارروائی سے روکا جائے، انہیں اور ان کے اہل خانہ کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ محض امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر کسی شہری کو مجرم نہ گردانا جائے۔

یہ اہم قانونی پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سپریم کورٹ پہلے ہی سی جے پی احتجاج سے متعلق مختلف عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے تمام ریاستوں اور انتظامی اداروں کو مظاہرین کے خلاف مزید جابرانہ کارروائیوں سے باز رہنے کا حکم دے چکی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے تمام متعلقہ ریاستوں کو ہدایت دی تھی کہ زیرِ حراست تمام نابالغوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور احتجاج سے حاصل کردہ تمام ڈیجیٹل ثبوتوں کو محفوظ رکھا جائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر پولیس يا انتظامیہ کی طرف سے طاقت کا ناجائز استعمال ہوا ہے تو اس کی جوابدہی طے کی جائے گی۔

اس کے باوجود بیہار، دہلی اور دیگر ریاستوں سے پولیس کی جانب سے لکڑی و فائبر لاٹھیوں، پیلٹ گنز اور فائرنگ کے ذریعے مظاہرین کو نشانہ بنائے جانے اور کارروائیاں جاری رکھنے کی اطلاعات مسلسل موصول ہو رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سی جے پی کا الزام ہے کہ حکومت احتجاج ختم کرنے کے معاہدے کے باوجود مظاہرین اور ان کی مدد کرنے والے عام شہریوں پر جھوٹے مقدمات درج کر کے انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔ سپریم کورٹ میں دائر جنید ملک کی یہ درخواست اقلیتوں اور نوجوانوں پر بڑھتے انتظامی دباؤ اور انسانی حقوق کی پاسداری کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دی جا رہی ہے۔

شیئر کریں۔