راجستھان کے دارالحکومت جے پور سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور افسوسناک خبر سامنے آئی ہے جہاں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی اور نوجوانوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے معروف لیڈر ابھیجیت ڈپکے پر سرعام بیہمانہ حملہ کیا گیا ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ جے پور کے مشہور تاریخی مقام شہید اسمارک پر پیش آیا جہاں ابھیجیت ڈپکے نے دیس گیر احتجاجی مہم کے تحت پیر کی سہ پہر ۳ بجے ایک پرامن عوامی اجتماع اور طلبہ مظاہرے کا اعلان کیا تھا۔ ابھیجیت ڈپکے جیسے ہی احتجاجی جلسے سے خطاب کرنے کے لیے میدان میں پہنچے تو وہاں موجود کچھ نامعلوم شرپسندوں نے ان پر دھاوا بول دیا، جس کی وجہ سے موقع پر شدید افراتفری مچ گئی اور پرامن ماحول کشیدہ ہو گیا۔
ابتدائی معلومات اور جائے وقوعہ سے سامنے آنے والی ویڈیوز کے مطابق ابھیجیت ڈپکے جب احتجاجی مقام پر پہنچے تو جوش و خروش سے بھرے حامیوں نے انہیں اپنے کندھوں پر اٹھا لیا تھا۔ وہ کندھوں پر سوار ہو کر ہجوم سے خطاب کرنے کے لیے آگے بڑھ ہی رہے تھے کہ اچانک بھیڑ میں شامل چند شرپسند عناصر نے ان کے گلے میں موجود اسکارف (گلو بند) کو پیچھے سے زور سے کھینچا اور انہیں نیچے گرانے کی کوشش کی۔ اس دوران شرپسندوں نے ابھیجیت ڈپکے کو نشانہ بناتے ہوئے ان کے چہرے پر متعدد تھپڑ مارے اور انہیں ہجوم کے درمیان گھسیٹنے کی کوشش کی۔ ابھیجیت ڈپکے کے حامیوں نے فوری طور پر مداخلت کر کے انہیں شرپسندوں کے چنگل سے چھڑایا اور محفوظ مقام کی طرف منتقل کیا، تاہم اس ناخوشگوار واقعے کی وجہ سے جے پور میں طلبہ اور نوجوانوں کے درمیان شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ پولیس انتظامیہ کی جانب سے معاملے کی جانچ اور ملزمان کی شناخت کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
بیک گراؤنڈ کے طور پر واضح رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے حال ہی میں ملک بھر میں تعلیمی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک معاملے کے خلاف ایک وسیع احتجاجی مہم کا آغاز کیا ہے۔ اس تحریک کی شروعات نئی دہلی میں ایک بڑے طلبہ اجتماع سے ہوئی تھی جس کے بعد امرتسر، پونے، بینگلورو، حیدرآباد اور لکھنؤ جیسے بڑے شہروں میں نوجوانوں نے سڑکوں پر نکل کر زبردست مظاہرے کیے۔ ابھیجیت ڈپکے نے چند روز قبل ہی خبردار کیا تھا کہ یہ مہم پورے ہندوستان میں پھیلائی جا رہی ہے اور اگر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے نیٹ (NEET) پیپر لیک اور سی بی ایس ایس او ایس ایم (CBSE OSM) کے سنگین مسائل پر فوری استعفیٰ نہ دیا تو دہلی میں دوبارہ ایک تاریخی اور بڑا مروجہ احتجاج کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مہم ملک کے کروڑوں مظلوم اور پریشان حال نوجوانوں کی حقیقی آواز بن چکی ہے۔
اس تحریک کے سیاسی اور سماجی اثرات کا جائزہ لیا جائے تو یہ گروپ مئی کے مہینے میں چیف جسٹس سوریا کانت کے ایک مبینہ متنازع بیان کے بعد عوامی غم و غصے کے نتیجے میں قائم ہوا تھا۔ سی جے پی نے دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر لاکھوں حامیوں کو اپنے ساتھ جوڑ لیا اور لفظ "کاکروچ” (چوہا/کاکروچ) کو حکومتی ناانصافی اور عوامی مزاحمت کی ایک بڑی علامت میں تبدیل کر دیا۔ اس احتجاجی مہم کو ملک کے مایہ ناز سماجی کارکن اور ماہر ماحولیات سونم وانگچک کی بھی بھرپور حمایت حاصل رہی ہے جو اس تحریک کے صف اول میں شامل ہیں، جبکہ اتوار کے روز بینگلورو میں معروف اداکار پرکاش راج نے بھی مظاہرین کے بیچ پہنچ کر ابھیجیت ڈپکے اور طلبہ کے مطالبات کی کھل کر تائید کی تھی۔
جے پور میں ابھیجیت ڈپکے پر ہونے والے اس بزدلانہ حملے کے بعد راجستھان اور ملک کی دیگر ریاستوں میں سیکیورٹی اور جمہوری احتجاج کے حقوق پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ طلبہ تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت اور مقامی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پرامن مظاہرین پر حملہ کرنے والے عناصر کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے حملوں سے نوجوانوں کی تحریک کو دبایا نہیں جا سکتا بلکہ اس سے پیپر لیک اسکیم کے خلاف جاری مہم مزید شدت اختیار کر سکتی ہے اور آنے والے دنوں میں قانونی و سیاسی محاذ پر حکومت کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔




