لندن کی برکبیک یونیورسٹی میں چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کے ایک لیکچر کے دوران اس وقت ناخوشگوار صورتحال پیدا ہو گئی جب حاضرین میں سے کچھ افراد نے ہندوستان میں اختلاف رائے کو دبانے اور چیف جسٹس کے حالیہ متنازع بیانات پر سوالات اٹھائے۔ اس واقعے کی ویڈیوز منظر عام پر آنے کے بعد لندن میں موجود ہندوستانی ہائی کمیشن نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر مہذب اور ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس سوریہ کانت اپنے چھ روزہ سرکاری دورے پر برطانیہ میں موجود ہیں۔ جمعرات کے روز وہ یونیورسٹی آف لندن کے برکبیک کالج میں ‘مصنوعی ذہانت اور بین الاقوامی قانون’ کے موضوع پر لیکچر دے رہے تھے۔ خطاب کے اختتام پر جب سوال و جواب کی نشست شروع ہوئی تو ایک شخص نے ہندوستان میں آزادی اظہار کی موجودہ صورتحال اور چیف جسٹس کے مبینہ ‘کاکروچ’ والے بیان کے حوالے سے سوال پوچھنے کی کوشش کی۔ اس دوران تقریب کے منتظم نے فوری مداخلت کرتے ہوئے اس سوال کو موضوع سے ہٹ کر قرار دیا اور انہیں بولنے سے روک دیا، جس کے باعث ہال میں کچھ دیر کے لیے کشیدگی اور بحث و مباحثہ دیکھنے میں آیا۔
اس واقعے کے فوراً بعد ہندوستانی ہائی کمیشن نے باضابطہ طور پر ایک بیان جاری کیا جس میں اس طرح کے سوالات اور رویے کو عوامی مباحثے کے وقار کے منافی قرار دیا گیا۔ ہائی کمیشن کا کہنا تھا کہ جمہوری معاشروں میں اختلاف رائے ایک فطری عمل ہے، لیکن اس کا اظہار ہمیشہ مہذب، شائستہ اور باوقار انداز میں ہونا چاہیے۔ سرکاری حکام کی جانب سے اس قدر سخت ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کے اندرونی حالات، بالخصوص اقلیتوں کے حقوق، آزادی اظہار اور اختلاف رائے پر اٹھنے والے سوالات پر حکومت کس قدر حساس ہے۔
عالمی فورمز پر بھارتی عدلیہ اور حکومتی نمائندوں کو اکثر ایسے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو ملک میں جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کی تشویش کو ظاہر کرتے ہیں۔ تقریب کے دوران چیف جسٹس نے مصنوعی ذہانت اور عدالتی نظام پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹیکنالوجی کے اثرات کا انحصار معاشرے کے استعمال پر ہے اور قانون کا مقصد ٹیکنالوجی کو روکنا نہیں بلکہ اسے آئینی اقدار اور انسانی وقار کا پابند بنانا ہے۔
اس ہنگامے اور تنقید کے باوجود چیف جسٹس سوریہ کانت برطانیہ میں اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق مصروفیات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے جمعہ کے روز ہندوستان اور برطانیہ کی اقتصادی شراکت داری کے حوالے سے منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں بھی شرکت اور خطاب کیا۔ تاہم، لندن کی اس تقریب نے ایک بار پھر عالمی سطح پر ہندوستان میں اختلاف رائے کی گنجائش اور جمہوری آزادیوں پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔




