ریٹائرڈ ریلوے ملازمین سے دھوکہ! اعزاز میں چاندی کے نام پر دیئے گئے  سکے نقلی نکلے

ویسٹ سنٹرل ریلوے کے تحت آنے والے بھوپال ریلوے ڈویژن میں ریٹائرڈ ملازمین کے ساتھ بڑا دھوکہ ہونے کی خبر ہے۔ اعزاز کے طور پر دیئے گئے چاندی کے سکے میں بڑا ’کھیل‘ سامنے آیا ہے۔ انہیں نقلی سکے دے دیے گئے ہیں۔ ریٹائرڈ ملازمین کو جب پتا چلا کہ چاندی کے نام پر انہیں تانبے کے سکے دیئے گئے ہیں تو انہوں نے اسے ٹیسٹ کرایا۔ لیب ٹیسٹنگ سے معلوم ہوا کہ انہیں جو سکے دیئے گئے ہیں اس میں صرف 0.23 گرام ہی چاندی ہے۔ اس کے بعد ریلوے میں کھلبلی مچ گئی۔

ایک ملازم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اعزازمیں دیئے گئے سکے کے نام پران کے ساتھ دھوکہ دھڑی ہوئی ہے۔ سکوں میں 99 فیصد چاندی غائب ہے۔ ریلوے ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے وقت اعزاز کے طور پرچاندی کے سکے دیئے جاتے ہیں۔ ان کی قیمت تقریباً 2000 روپے ہوتی ہے۔ اندور کی کمپنی سے ریلوے نے جنوری 2023 میں یہ سکے خریدے تھے۔ بھوپال کو سرٹیفکیٹس کے ساتھ 3,631 سکے ملے تھے۔

’نوبھارت ٹائمز ڈاٹ کام‘ سے فون پر بات کرتے ہوئے ویسٹ سنٹرل ریلوے کے چیف پبلک ریلیشن آفیسر(سی پی آراو) ہرشت سریواستو نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہے۔ وہیں ذرائع کے مطابق ریلوے ویجی لینس ٹیم بھی اس کی تحقیقات کرے گی۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایک ہی فرم نے کئی مقامات پر سکے سپلائی کیے تھے۔ اس لیے سپلائی کمپنی نے دیگر مقامات پر بھی دھوکہ دہی کی ہو گی۔

ریلوے کے ریٹائرڈ ریلوے ملازمین کو دینے کے لیے چاندی کے گولڈ پلیٹیڈ سکے ہوتے ہیں۔ ان کی قیمت 2,000 سے 2,200 روپئے کے درمیان ہوتی ہے۔ مگر جن ملازمین کو یہ سکے دیئے گئے وہ چاندی کے نہیں تھے۔ ان میں صرف 0.23 فیصد چاندی تھی۔ اس معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا ریلوے نے ان سکوں کی جانچ نہیں کروائی؟ ٹینڈر کے بعد ملنے والے سکوں کو لا کر ڈپو میں رکھ دیا گیا۔ یہ سکے اندور کی فرم ’میسرس وائبل ڈائمنڈس‘ سے  خریدے گئے تھے۔

قومی آواز کے شکریہ کے ساتھ