ہندوستان کی کھیل دنیا اور سیاسی حلقوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والے خاتون پہلوانوں کے جنسی استحصال کے ہائی پروفائل معاملے میں دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے ایک بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ اشونی پنوار نے سابق بی جے پی رکن پارلیمنٹ اور ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (WFI) کے سابق صدر برج بھوشن شرن سنگھ کو تمام الزامات سے بَری کر دیا ہے۔ عدالت نے اسی مقدمے میں نامزد ڈبلیو ایف آئی کے سابق اسسٹنٹ سکریٹری ونود تومر کو بھی عدم ثبوت کی بنیاد پر تمام الزامات سے پاک قرار دیا ہے۔ یہ فیصلہ ان کیمرہ سماعتوں، تحریری دلائل اور متعدد گواہوں کے بیانات قلم بند کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے فوراً بعد برج بھوشن شرن سنگھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ انہوں نے پہلے دن ہی کہا تھا کہ اگر ان کے خلاف ایک بھی الزام ثابت ہو جائے تو وہ خود کو پھانسی پر لٹکا لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ملک کے عدالتی نظام پر کامل یقین تھا اور آج کا دن ان کے اور ان کے حامیوں کے لیے خوشی کا باعث ہے۔ برج بھوشن کے وکلاء کے مطابق استغاثہ اور شکایت کنندگان کے بیانات میں تضادات اور شکایت درج کرانے میں تاخیر کو عدالت نے فیصلے کی بنیاد بنایا، تاہم تفصیلی تحریری حکم نامہ موصول ہونے کے بعد ہی تمام قانونی نکات مزید واضح ہوں گے۔
دوسری جانب، اس فیصلئہ بریت پر متاثرہ خاتون پہلوانوں اور قومی سطح کے کھلاڑیوں کا شدید اور برہم ردِعمل سامنے آیا ہے۔ بین الاقوامی پہلوان اور کانگریس رہنما ونیش پھوگاٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنا دکھ ظاہر کرتے ہوئے لکھا کہ اقتدار کے اثر و رسوخ کے باوجود چند خاتون پہلوانوں نے عدالت میں ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شروعات سے ہی پورا حکومتی نظام برج بھوشن کو بچانے میں لگا ہوا تھا۔ ونیش پھوگاٹ نے واضح کیا کہ انہوں نے ہمت نہیں ہاری ہے اور ان کے وکلاء کو اس فیصلے کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔
نامور پہلوان بجرنگ پونیا نے بھی عدالتی فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ وہ راؤز ایونیو کورٹ کے فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پہلوان جلد ہی نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کر کے اپنی آئندہ کی قانونی اور سماجی حکمتِ عملی کو عوام کے سامنے رکھیں گے۔ اس ردِعمل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس ہائی پروفائل اور حساس معاملے کی قانونی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ یہ تنازعہ 2023 میں اس وقت ایک بڑا قومی و عالمی مسئلہ بن گیا تھا جب اولمپک اور عالمی چیمپئن شپ کے تمغہ یافتہ پہلوانوں نے برج بھوشن سنگھ پر اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھانے اور جونیئر کھلاڑیوں کا جنسی استحصال کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ پہلوانوں نے نئی دہلی کے جنتر منتر پر طویل دھرنا دیا تھا، جس کے بعد سپریم کورٹ کی سخت ہدایت پر دہلی پولیس نے ایف آئی آر درج کی اور جون 2023 میں 1500 صفحات کی چارج شیٹ داخل کی تھی۔ اس معاملے پر ملک بھر کے کھیل اور قانونی حلقوں کی نظریں مسلسل جمی ہوئی ہیں۔




