مغربی بنگال کے حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج نے ریاست کی سیاسی بساط کو مکمل طور پر پلٹ دیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ریاست کی 294 میں سے 207 نشستوں پر شاندار کامیابی حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا ہے، جس کے بعد ریاست بھر میں جشن کا سماں ہے۔ تاہم، اس جیت کے فوراً بعد بھوانی پور سے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو شکست دینے والے بی جے پی لیڈر سوویندو ادھیکاری کے ایک انتہائی متنازعہ اور تفرقی بیان نے ریاست کے سیاسی اور سماجی ماحول میں تلخی گھول دی ہے۔
سوویندو ادھیکاری، جنہوں نے ممتا بنرجی کو ان کے مضبوط قلعے بھوانی پور میں شکست دی، نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم ووٹرز کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کھلے عام کہا کہ وہ صرف ان ہندو ووٹرز کے لیے کام کریں گے جنہوں نے انہیں ووٹ دیا ہے۔ ادھیکاری کا دعویٰ تھا کہ مسلمانوں نے یکطرفہ طور پر ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو ووٹ دیا، جبکہ ہندوؤں، سکھوں، جینوں اور بدھ مت کے پیروکاروں نے بی جے پی کا ساتھ دیا۔ ان کا یہ بیان کہ "یہ جیت ہندوتوا کی جیت ہے” اور "میں صرف ہندوؤں کے لیے کام کروں گا”، ایک منتخب نمائندے کے دستوری حلف اور جمہوری روایات کے منافی تصور کیا جا رہا ہے۔
ریاست میں انتخابی نتائج کے بعد کئی مقامات سے تشدد کی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں، جس نے امن و امان کی صورتحال پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سوویندو ادھیکاری جیسے ذمہ دار لیڈروں کی جانب سے مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بنانا اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر سیاست کو آگے بڑھانے کا عزم ریاست میں سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ادھیکاری نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ترنمول کانگریس اگلے 24 گھنٹوں میں بکھر جائے گی اور بی جے پی اپنے ہندوتوا کے ایجنڈے کو پوری قوت سے نافذ کرے گی۔
مغربی بنگال کی انتخابی تاریخ میں یہ بی جے پی کی سب سے بڑی کامیابی ہے جہاں اس نے حکومت سازی کے لیے درکار 148 کے ہندسے کو عبور کرتے ہوئے 207 نشستیں حاصل کیں۔ دوسری جانب، ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس محض 80 نشستوں پر سمٹ گئی ہے۔ اس انتخاب میں سیکولر ووٹوں کی تقسیم اور ہندو ووٹوں کے ارتکاز نے بی جے پی کو یہ بڑی برتری دلائی ہے۔ تاہم، بی جے پی کی اس جیت کے ساتھ ہی ریاست کی مسلم اقلیت میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو رہا ہے، خاص طور پر سوویندو ادھیکاری کے حالیہ بیانات کے بعد، جنہیں اپوزیشن لیڈر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مغربی بنگال میں اب نئی حکومت کی تشکیل کے ساتھ ہی بی جے پی کے لیے سب سے بڑا چیلنج ریاست کے کثیر مذہبی اور کثیر لسانی ڈھانچے کو برقرار رکھنا ہوگا۔ جہاں ایک طرف پارٹی اپنی جیت کا جشن منا رہی ہے، وہی دوسری طرف انسانی حقوق کے علمبردار اور سماجی کارکنان اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ سیاسی اختلافات کو مذہبی منافرت میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت سوویندو ادھیکاری کے اس قسم کے تفرقی بیانات پر کیا موقف اختیار کرتی ہے۔




