سیوان: آر جے ڈی ایم ایل اے اسامہ شہاب کی پیشگی ضمانت مسترد، زمین کے تنازعہ میں بڑھ سکتی ہیں قانونی مشکلات

بہار کے ضلع سیوان سے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے ایم ایل اے اسامہ شہاب کی قانونی مشکلات میں اس وقت بڑا اضافہ ہو گیا جب مقامی عدالت نے ایک سنگین مجرمانہ معاملے میں ان کی پیشگی ضمانت کی درخواست کو خارج کر دیا۔ رگھوناتھ پور حلقہ سے نو منتخب رکن اسمبلی اسامہ شہاب پر زمین کے تنازعہ سے متعلق ایک کیس میں ملوث ہونے کا الزام ہے، جس پر عدالت نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج موتیش کمار سنگھ کی عدالت میں اس اہم معاملے کی سماعت ہوئی، جہاں فریقین کے درمیان طویل بحث کے بعد عدالت نے ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔

سماعت کے دوران دفاعی وکیل نویندو شیکھر دیپک نے عدالت میں بھرپور کوشش کی کہ ان کے موکل کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنائے جانے کی بنیاد پر ریلیف مل سکے۔ انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسامہ شہاب کو ایک سوچی سمجھی سیاسی سازش کے تحت اس معاملے میں گھسیٹا گیا ہے اور حقیقت میں ان کا اس زمین یا متعلقہ واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دفاعی فریق کا موقف تھا کہ پولیس کی تفتیش میں تعاون کے باوجود سیاسی دباؤ کی وجہ سے انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے، اس لیے انہیں گرفتاری سے قبل ضمانت فراہم کی جانی چاہیے۔

دوسری جانب استغاثہ کی طرف سے پبلک پراسیکیوٹر پرمیل کمار عرف گوپ بابو نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے معاملے کی سنگینی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ یہ کیس محض زمین کا معمولی تنازعہ نہیں ہے بلکہ اس میں بڑے پیمانے پر افراد ملوث ہیں اور الزامات کی نوعیت ایسی ہے کہ اگر ملزم کو اس مرحلے پر ضمانت دی گئی تو تفتیشی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ استغاثہ نے پولیس ڈائری اور اب تک جمع کیے گئے شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقدمے کی غیر جانبدارانہ انکوائری کے لیے ملزم کی پیشگی ضمانت کی درخواست مسترد کرنا ضروری ہے۔

یہ پورا تنازعہ 15 اپریل کو اس وقت شروع ہوا جب سیوان کے مہادیوا پولیس اسٹیشن میں ایک ڈاکٹر جوڑے کی جانب سے ایف آئی آر درج کرائی گئی۔ شکایت گزار ڈاکٹر ونے کمار اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر سدھا سنگھ، جو فی الحال گورکھپور میں مقیم ہیں، نے الزام لگایا کہ اسامہ شہاب اور ان کے ساتھیوں نے زمین کے معاملے پر انہیں ہراساں کیا اور دھمکیاں دیں۔ اس ایف آئی آر میں اسامہ شہاب سمیت چار نامزد اور تقریباً 35 نامعلوم افراد کو شامل کیا گیا ہے۔ سابق ممبر پارلیمنٹ مرحوم محمد شہاب الدین کے فرزند ہونے کے ناطے اسامہ شہاب کی سیاست اور اس کیس پر پورے بہار کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔

عدالت کے اس حالیہ فیصلے کے بعد پولیس کی جانب سے کارروائی تیز ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا اسامہ شہاب اب ہائی کورٹ کا رخ کریں گے یا پولیس انہیں پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے گی۔ فی الحال آر جے ڈی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن سیوان میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے الرٹ موڈ پر ہیں۔

شیئر کریں۔